جب زندگی کے ہر موڑ پر خطرات منڈلا رہے ہوں اور فضا میں سائرن کی آوازیں گونج رہی ہوں، تب بھی انسان امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ یوکرین کے بحیرہ اسود کے قریب واقع ایک شہر کے باسیوں نے کچھ ایسا ہی عزم ظاہر کیا ہے، جہاں روسی میزائل حملوں کے خوف اور تباہی کے باوجود سالانہ مرمت کے تہوار کو زمین کے اندر پناہ گاہ میں منعقد کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

"پازیٹو نیوز" کی رپورٹ کے مطابق، یہ "چورنومورسک ریپئر فیسٹیول" پہلے ایک کالج کی عمارت میں منعقد ہوتا تھا، لیکن حالیہ بمباری میں وہ عمارت تباہ ہو گئی۔ اب منتظمین نے اس تقریب کو زیر زمین منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو 17 اکتوبر کو عالمی یومِ مرمت سے پہلے منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس تہوار میں سائیکلیں، الیکٹرانک اشیاء اور کپڑے ٹھیک کرنے کے طریقے سکھائے جائیں گے، جبکہ روزمرہ کی چیزوں کے اندرونی نظام کو سمجھنے کے لیے ایک تجرباتی زون بھی بنایا گیا ہے۔

اس تقریب کی ایک منتظم ناتالیا پಾಸینکو نے "پازیٹو نیوز" سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تنازع کے باوجود نوجوانوں کے لیے سیکھنے کے مواقع کو برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ جنگ نوجوانوں سے سیکھنے، تخلیق کرنے، تجربات کرنے اور ایک دوسرے سے ملنے کے مواقع چھین لے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرکاء یہ سیکھ رہے ہیں کہ مشکل حالات میں روزمرہ کی زندگی کو کیسے بحال اور برقرار رکھا جائے۔

مرمت کے فلاحی ادارے "ریسٹارٹ پروجیکٹ" کی کو-ڈائریکٹر فیونا ڈیئر نے اس عزم کو انتہائی متاثر کن قرار دیا۔ "پازیٹو نیوز" کے مطابق انہوں نے کہا کہ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ شہر پر حملوں کے دوران زیر زمین پناہ گاہ میں مرمت کی مہارت سکھانے کا یہ تہوار کتنی گہری علامت رکھتا ہے۔

پس منظر

"پازیٹو نیوز" کی رپورٹ کے مطابق، یوکرین کو تقریباً پانچ سال سے جنگ کا سامنا ہے، جس دوران ملک کے مختلف شعبوں میں عزم و استقلال کا مظاهرہ کیا گیا ہے۔ چورنومورسک یوکرین کی مرمت کی تحریک کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ عالمی یومِ مرمت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے تاکہ کمیونٹی کی سطح پر چیزوں کو درست کرنے، مہنگائی کا مقابلہ کرنے، فضلہ روکنے اور مرمت کی مہارتیں سکھانے کو فروغ دیا جا سکے۔ اس دن کے حوالے سے مصر، بھارت، یوکرین اور برطانیہ سمیت کئی ملکوں میں تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

اس کی اہمیت کیا ہے؟

مشکل ترین حالات میں بھی سماجی اقدار اور عزم کی مثالیں تلاش کرنے والے قارئین کے لیے یہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عام شہری شدید بحرانوں کے باوجود روزمرہ زندگی کو چلانے، پائیداری کو فروغ دینے اور تعلیم کے چراغ جلائے رکھنے کے لیے کیسے نئے راستے تلاش کر لیتے ہیں۔