عدالت کے احاطے میں ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی جھنکار کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے قیدیوں کے قدموں کی چاپ ایک طویل قانونی جنگ کی کہانی سناتی ہے۔ ان میں 42 سالہ انسانی حقوق کے وکیل آرنن نامپا بھی شامل ہیں، جنہوں نے عدالت میں پیشی کے دوران اپنے 3 سالہ بیٹے کو بانہوں میں اٹھایا، جیسا کہ بی بی سی نیوز نے رپورٹ کیا۔
بی بی سی نیوز کے مطابق، آرنن کا گناہ یہ تھا کہ انہوں نے اگست 2020 میں بینکاک میں ایک مظاہرے کے دوران مشہور جادوگر ہیری پوٹر کا روپ دھار کر تھائی لینڈ کی طاقتور بادشاہت کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ بینکاک کی ایک عدالت نے انہیں آرٹیکل 112 کے تحت توہینِ بادشاہت کے الزام میں 2 سال اور 8 ماہ قید کی سزا سنائی۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ اسی الزام کے تحت ان کے خلاف دائر 14 مقدمات میں سے ایک ہے، جس کے بعد ان کی مجموعی قید کی سزا 34 سال سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ دو مقدمات ابھی بھی زیرِ التوا ہیں۔
بی بی سی نیوز کے مطابق، آرنن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے، اور انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملک زیادہ کھلا ہوتا تو زیادہ کھل کر بحث ممکن ہو سکتی تھی۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق، گزشتہ 6 برسوں کے دوران تھائی لینڈ کی تاریخ میں توہینِ بادشاہت کے قوانین کا سب سے زیادہ استعمال دیکھا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ 2020 کے طلبہ کے وہ بے مثال مظاہرے تھے جن میں پہلی بار بادشاہت کے کردار پر عوامی بحث کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق آرٹیکل 112 کے تحت 294 افراد پر مقدمات چلائے گئے ہیں جن میں 18 سال سے کم عمر کے 20 نابالغ بھی شامل ہیں، اور انہیں 50 سال تک کی قید کی سزائیں دی گئی ہیں جبکہ درجنوں افراد اب بھی ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
تھائی فوجداری ضابطے کا آرٹیکل 112 یہ حکم دیتا ہے کہ جو بھی شخص بادشاہ، ملکہ، ولی عہد یا ریجنٹ کی توہین کرے یا دھمکی دے، اسے 3 سے 15 سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ بی بی سی نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عملی طور پر اس قانون کی تشریح اتنی وسیع کی گئی ہے کہ اس میں شاہی خاندان، اس کے اداروں، فوت شدہ بادشاہوں اور یہاں تک کہ بادشاہ کے کتے کے بارے میں تبصرے بھی شامل ہیں۔ بی بی سی نیوز کا کہنا ہے کہ تھائی حکام اس قانون کا دفاع کرتے ہوئے اسے ملک کی تاریخ اور ثقافت کا آئینہ دار قرار دیتے ہیں جہاں بادشاہت کو اکثریت کی طرف سے انتہائی قابلِ احترام ستون سمجھا جاتا ہے، جبکہ زیادہ تر مدعا علیہان کو طویل ٹرائل کے دوران ضمانت بھی نہیں دی جاتی۔
اس معاملے کی اہمیت
عالمی قانونی نظام کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے یہ مقدمہ اظہارِ رائے کی آزادی، ریاستی قوانین اور قومی اداروں سے متعلق تاریخی روایات کے مابین پیچیدہ تعلق کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ رپورٹنگ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح قومی شخصیات اور اداروں پر تنقید کو کنٹرول کرنے والے قانونی فریم ورک طویل عدالتی کارروائیوں اور کارکنوں کے لیے طویل قید کی سزاؤں کا سبب بن سکتے ہیں۔

