دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ماحول دوست اقدامات اور شہری منصوبہ بندی میں مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ پازیٹو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، برازیل کے جنگلات کے تحفظ اور لندن میں ٹریفک کی بندش جیسے اقدامات نے دنیا بھر کی توجہ مبذول کرائی ہے۔
اہم حقائق
پازیٹو نیوز کے مطابق برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے ایک بار پھر اقتدار سنبھال لیا ہے۔ ماحولیاتی کارکنوں اور تنظیموں نے اس سیاسی کامیابی کو ایمیزون کے جنگلات اور مقامی قبائل کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ انٹرنیشنل این جی او فاریسٹس آف دی ورلڈ کی سیاسی مشیر لوئزا ریبیلو نے اس پیشرفت کو ایمیزون اور عالمی آب و ہوا کے لیے امید کی کرن قرار دیا۔ گرین پیس برازیل نے بھی اس کامیابی کو سراہا، تاہم یہ انتباہ بھی کیا کہ پارلیمنٹ میں دائیں بازو کے ارکان کا اثر و رسوخ اب بھی ایک چیلنج ہے۔ رینف forêts فاؤنڈیشن ناروے کے اینڈرس ہوگ لارسن نے عالمی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ صدر لولا کے جنگلات کی کٹائی کے خاتمے کے مشن میں ساتھ دیں۔
دوسری جانب برطانیہ میں، پازیٹو نیوز کے مطابق لندن کی مشہور آکسفورڈ سٹریٹ پر گاڑیوں، بائیسکل اور سکوٹرز کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔ لندن کے میئر صادق خان نے اسے دارالحکومت کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا۔ اگرچہ کچھ کاروباری حلقوں اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے ٹریفک کے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا ہے، لیکن جائزوں کے مطابق اس تبدیلی سے مقامی معیشت میں 82 ملین پاؤنڈ کا اضافہ ہوگا اور 700 نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔ اس کے علاوہ گائیڈ ڈاگز کی پالیسی ہیڈ ایلینور برگز نے نابینا افراد کے لیے اس راستے کو مزید آسان بنانے کے اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔
پس منظر
رپورٹ کے مطابق صدر لولا دا سلوا نے اپنے گزشتہ دورِ حکومت میں ایسے اقدامات کیے تھے جن سے ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی میں نمایاں کمی آئی تھی۔ ان کے نئے دور کا مقصد 2030 تک جنگلات کی کٹائی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے، اگرچہ انہیں پارلیمنٹ میں سخت مخالفت کا سامنا ہے۔ لندن میں آکسفورڈ سٹریٹ کو پیدل چلنے والوں کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ دہائیوں کی بحث اور آن لائن خریداری کے رجحان کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ تمام تبدیلیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ماحولیاتی تحفظ اور شہری ترقی کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جا سکتا ہے۔ پالیسی کے یہ فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ درست وقت پر کیے گئے اقدامات کس طرح معاشروں اور ماحول کی شکل بدل سکتے ہیں۔

