اقوالِ زریں
سنہری باتیں
قائدِ اعظم کے فرمودات، زندگی، علم، اخلاق، صحت اور وطن سے محبت کی اچھی باتیں، اور ہماری کہاوتیں۔ ہر بات کو خوبصورت تصویر میں محفوظ کریں یا تحریر کاپی کر کے اپنوں تک پہنچائیں۔
آج کی بات
سادہ کھانا، پوری نیند اور روز کی سیر — یہی اچھی صحت کا راز ہے۔
قائدِ اعظم کے فرمودات
بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی تقاریر سے، تاریخ اور مقام کے ساتھ۔
اتحاد، ایمان، تنظیم۔
آپ آزاد ہیں؛ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اپنی مسجدوں میں یا اس ریاستِ پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔
کوئی قوم اس وقت تک عظمت کی بلندیوں کو نہیں چھو سکتی جب تک اس کی عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ نہ ہوں۔
آپ حکمران نہیں ہیں؛ آپ حکمران طبقے سے تعلق نہیں رکھتے، آپ خادموں میں سے ہیں۔
زندگی اور کامیابی
محنت، وقت اور حوصلے کے بارے میں سنہری باتیں۔
وقت کی قدر کیجیے، گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔
محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی، بس نتیجہ وقت لیتا ہے۔
کامیابی ایک دن میں نہیں ملتی، مگر ایک دن ضرور ملتی ہے۔
اپنا موازنہ دوسروں سے نہیں، کل کے اپنے آپ سے کیجیے۔
ناکامی آخری منزل نہیں، اگلی کوشش کا سبق ہے۔
چھوٹا قدم بھی آگے کی طرف ہو تو منزل قریب آتی ہے۔
جو کل پر ٹالتا ہے، اس کا کل کبھی نہیں آتا۔
مشکل وقت ہمیشہ نہیں رہتا، مگر مضبوط لوگ رہتے ہیں۔
خواب دیکھنا اچھا ہے، مگر جاگ کر محنت کرنا ضروری ہے۔
شکر گزار دل کبھی خالی نہیں رہتا۔
جو آج درخت لگاتا ہے، وہ آنے والی نسلوں کو سایہ دیتا ہے۔
اچھا انسان بننا ہر ڈگری سے بڑی کامیابی ہے۔
علم اور تعلیم
علم، کتاب اور سیکھنے کی اہمیت پر۔
علم وہ دولت ہے جو بانٹنے سے بڑھتی ہے۔
کتاب بہترین دوست ہے، جو کبھی شکایت نہیں کرتی۔
سوال کرنے میں شرم نہ کیجیے، نہ جاننا عیب نہیں، نہ سیکھنا عیب ہے۔
ایک پڑھی لکھی ماں پورے خاندان کو روشن کر دیتی ہے۔
سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی؛ جو سیکھنا چھوڑ دے وہ بوڑھا ہو جاتا ہے۔
استاد کی عزت کیجیے، اس نے آپ کو وہ دیا جو کوئی چھین نہیں سکتا۔
علم کے بغیر عمل اندھا ہے، اور عمل کے بغیر علم بے کار۔
روز ایک نئی بات سیکھیے، سال کے آخر میں آپ بدل چکے ہوں گے۔
اخلاق اور رشتے
والدین، دوستی، سچائی اور اچھے برتاؤ کے بارے میں۔
والدین کی خدمت کو کبھی بوجھ نہ سمجھیں، یہی اصل کامیابی ہے۔
سچ بولنے والے کو اپنی بات یاد نہیں رکھنی پڑتی۔
کسی کی مدد کر کے احسان نہ جتائیں، نیکی کا حسن اسے چھپانے میں ہے۔
زبان کی مٹھاس دلوں کے دروازے کھول دیتی ہے۔
اختلافِ رائے دشمنی نہیں؛ دلیل سے بات کیجیے، لہجہ نرم رکھیے۔
وعدہ سوچ کر کیجیے، اور کر لیں تو نبھائیے۔
سچا دوست وہ ہے جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کا ساتھ دے۔
معاف کر دینا کمزوری نہیں، بڑے دل کی نشانی ہے۔
غصے میں کیا گیا فیصلہ اکثر پچھتاوا بن جاتا ہے۔
چھوٹی چھوٹی نیکیاں مل کر بڑا فرق ڈالتی ہیں۔
عزت دینے والے کو ہی عزت ملتی ہے۔
پڑوسی کا خیال رکھیے، مشکل میں سب سے پہلے وہی کام آتا ہے۔
صحت اور صفائی
اچھی صحت اور صاف ستھرے ماحول کے لیے آسان باتیں۔
صحت سب سے بڑی دولت ہے؛ اس کی قدر بیماری سے پہلے کیجیے۔
صفائی اپنے گھر سے شروع ہوتی ہے، پھر گلی، شہر اور ملک تک پہنچتی ہے۔
سادہ کھانا، پوری نیند اور روز کی سیر — یہی اچھی صحت کا راز ہے۔
کوڑا کوڑے دان میں ڈالیے، اپنی گلی کو اپنا گھر سمجھیے۔
پانی ضائع نہ کیجیے، یہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔
ہنسنا اور خوش رہنا بھی صحت کا حصہ ہے۔
وطن سے محبت
پاکستان اور اس کی مٹی سے محبت کی باتیں۔
وطن سے محبت صرف نعروں سے نہیں، ایمانداری سے کام کرنے سے ہوتی ہے۔
قانون کی پابندی کرنا سب سے بڑی حب الوطنی ہے۔
اپنے ملک کی چیزیں خریدیے، اپنے ہنرمندوں کا ہاتھ مضبوط کیجیے۔
اتحاد میں طاقت ہے؛ ہم سب ایک ہیں تو پاکستان مضبوط ہے۔
ٹیکس دینا، ووٹ دینا اور ملک کو صاف رکھنا ہر شہری کا فرض ہے۔
یہ دھرتی ہماری پہچان ہے، اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔
کہاوتیں اور محاورے
ہماری زبان کی پرانی کہاوتیں اور محاورے، مطلب کے ساتھ۔
جیسی کرنی ویسی بھرنی
مطلب: انسان کو اپنے ہی اعمال کا بدلہ ملتا ہے۔
قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے
مطلب: تھوڑی تھوڑی بچت یا محنت سے بڑا کام ہو جاتا ہے۔
صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے
مطلب: صبر کرنے والے کو آخرکار اچھا نتیجہ ملتا ہے۔
اتفاق میں برکت ہے
مطلب: مل جل کر کام کرنے سے کامیابی ملتی ہے۔
نیکی کر دریا میں ڈال
مطلب: بھلائی کر کے بدلے کی امید نہ رکھو۔
آپ بھلے تو جگ بھلا
مطلب: خود اچھے ہو تو دنیا بھی اچھی لگتی ہے۔
اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت
مطلب: وقت گزر جانے کے بعد پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں۔
ہاتھ کنگن کو آرسی کیا
مطلب: جو بات صاف ظاہر ہو اسے ثبوت کی ضرورت نہیں۔
اونٹ کے منہ میں زیرہ
مطلب: ضرورت کے مقابلے میں بہت تھوڑی چیز۔
دیر آید درست آید
مطلب: دیر سے سہی، مگر صحیح کام ہو جائے تو اچھا ہے۔
جس کی لاٹھی اس کی بھینس
مطلب: طاقتور اپنی بات منوا لیتا ہے؛ یہ ناانصافی پر طنز ہے۔
ایک انار سو بیمار
مطلب: چیز ایک اور چاہنے والے بہت۔
دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے
مطلب: ایک بار نقصان اٹھانے والا ہر کام احتیاط سے کرتا ہے۔
نو دو گیارہ ہونا
مطلب: چپکے سے بھاگ جانا۔
آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا
مطلب: ایک مصیبت سے نکل کر دوسری میں پھنس جانا۔
ہاتھ پاؤں ہلانا
مطلب: کچھ کرنے کی کوشش کرنا، محنت کرنا۔
جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں
مطلب: جو زیادہ باتیں کرتے ہیں وہ اکثر کچھ کرتے نہیں۔
بندر کیا جانے ادرک کا سواد
مطلب: ناقدرا اچھی چیز کی قدر نہیں جانتا۔
اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے
مطلب: اپنے علاقے میں ہر کوئی دلیر بن جاتا ہے۔
تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو
مطلب: جلدی نہ کرو، حالات کا انتظار کرو۔
کسی شخصیت سے منسوب اقوال صرف وہی ہیں جن کا ماخذ معلوم ہے: قائدِ اعظم کے فرمودات تقریر کی تاریخ اور مقام کے ساتھ۔ باقی اچھی باتیں پاک دھرتی ٹی وی کی اپنی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بہت سے اقوال غلط ناموں سے منسوب کیے جاتے ہیں؛ ہم ایسے اقوال شائع نہیں کرتے۔
