کیا کسی کاروبار کی کامیابی کا پیمانہ صرف اس کا منافع ہے یا وہ زندگیاں جو وہ بدلتا ہے؟ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یو این ویمن نے پاکستان میں 2026ء کے ویمنز ایمپاورمنٹ پرنسپلز (WEPs) ایوارڈز کے دوران صنفی مساوات کے فروغ کے لیے کام کرنے والے 17 کاروباری اداروں اور رہنماؤں کو اعزاز سے نوازا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ایوارڈز ملک بھر سے موصول ہونے والی 52 درخواستوں میں سے سات مختلف زمروں کے تحت دیے گئے، جن میں بڑے کارپوریٹس کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs) بھی شامل تھے۔

جیو نیوز کے مطابق اس تقریب کا اہتمام یو این ویمن پاکستان نے ڈیرین اور سورتی کے اشتراک سے کیا جبکہ جیو نیوز اس کا میڈیا پارٹنر تھا۔ تقریب میں ایسے اقدامات کو سراہا گیا جو جامع قیادت کو فروغ دیتے ہیں، صنفی لحاظ سے ذمہ دار کاروباری طریقوں کو مضبوط بناتے ہیں اور ملک بھر میں خواتین کے لیے معاشی مواقع میں اضافہ کرتے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یو این ویمن پاکستان کے کنٹری نمائندے جمشید ایم قاضی نے کہا کہ کاروبار کی اصل کامیابی کا انحصار زندگیوں کو بدلنے اور مستقبل کو ممکن بنانے پر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو بغیر کسی رکاوٹ کے قیادت کرنے اور باوقار طریقے سے کام کرنے کا موقع دینا معیشت کی تشکیل نو میں مدد کرتا ہے۔

مہمانِ خصوصی اور سندھ کے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی معاشی شرکت پاکستان کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مساوی مواقع کو فروغ دینے والے اداروں کی حوصلہ افزائی سے یہ پیغام ملتا ہے کہ صنفی مساوات ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ساؤتھ ایئر کی چیফ ایگزیکٹو آفیسر اور کلیدی مقرر نشاط فاطمہ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ خواتین کو بااختیار بنانا اداروں کو مضبوط کرتا ہے، جدت طرازی کو فروغ دیتا ہے اور ایک زیادہ جامع اور خوشحال پاکستان میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔

پس منظر

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ڈبلیو ای پیز ایوارڈز کی اس تقریب میں ایسے کاروباری رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کیا گیا جو دفاتر، مارکیٹس اور کمیونٹیز میں صنفی مساوات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ تقریب میں ایسے اداروں کی خدمات کا اعتراف کیا گیا جنہوں نے صنفی شمولیت پر مبنی پالیسیاں بنائیں، مصنوعات اور خدمات میں صنفی زاویے کو شامل کیا، اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے شراکت داری قائم کی۔ اس کے علاوہ ایوارڈز میں مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا جو صنفی مساوات کے فروغ میں مددگار ہیں۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان کے عام قارئین اور کاروباری طبقے کے لیے یہ اعزازات ان عملی اقدامات کو سامنے لاتے ہیں جو ادارے دفاتر کو جامع بنانے اور معاشی مواقع بڑھانے کے لیے اٹھا رہے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق، ایسے اقدامات جو خواتین کی قیادت اور مارکیٹ تک مساوی رسائی کی حمایت کرتے ہیں، وسیع تر معاشی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور ملک کے کاروباری شعبے کے مستقبل کی تشکیل کرتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

جیو نیوز کے مطابق، پاکستان کے ان قومی فاتحین کو خطے کے دیگر ممالک کے فاتحین کے ساتھ 2026ء کے ایشیا پیسیفک ڈبلیو ای پیز ایوارڈز کے لیے بھی غور میں لایا جائے گا۔