دنیا کی سب سے بڑی کرپتو کرنسی ایکسچینج بائنانس پر اربوں ڈالر کی ڈیجیٹل چوری کا ایک بڑا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے عالمی سطح پر سائبر سکیورٹی کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، بلاک چین کے شعبے کے دو بڑے تجزیہ کار اداروں نے اس بات کی گہری نشاندہی کی ہے کہ اس تاریخی حملے کے پیچھے شمالی کوریا کا سرکاری حمایت یافتہ گروہ ملوث ہو سکتا ہے۔
بی بی سی کے مطابق، ٹی آر ایم لیبز اور چینالیسس نامی اداروں نے ذمہ دار گروہ کی شناخت کی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حملہ آوروں نے ممکنہ طور پر بائنانس کے ہاٹ والٹ سائننگ سسٹم تک رسائی حاصل کی اور انٹرنیٹ سے منسلک اس والٹ کو خودکار طریقے سے رقم منتقل کرنے والے نظام میں تبدیل کر دیا۔ بائنانس کا کہنا تھا کہ پہلے ایسا لگا جیسے کسی انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہوا ہو، لیکن بعد میں یہ واضح ہوا کہ یہ حملہ کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر کیا گیا تھا۔ بی بی سی کے مطابق، بائنانس نے اس حملے کے شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ رابطوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات پر فی الحال کوئی براہ راست ردعمل نہیں دیا۔
پس منظر
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ شمالی کوریا سے جڑے سائبر حملوں کی اس طویل زنجیر کی کڑی ہے جسے دنیا کا غریب ترین اور انٹرنیٹ کی سخت ترین پابندیوں والا ملک مانا جاتا ہے۔ بی بی سی کی طرف سے نقل کیے گئے ماہرین کا الزام ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی حکومت مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے سائبر کرائم کا سہارا لیتی ہے، تاہم پیانگ یانگ اس طرح کے الزامات کی ہمیشہ تردید کرتا رہا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس ملک نے اپنے ہونہار یونیورسٹی طلباء کو چن کر ان کی ایسی ہیکر جماعتوں میں شمولیت کا منظم نظام بنایا ہے جن کی نگرانی خفیہ ایجنسیاں کرتی ہیں، اور اس طرح کی سائبر کارروائیوں کا کچھ حصہ سرحد پار چین سے بھی چلایا جاتا ہے۔ بی بی سی کی بیان کردہ سابقہ کارروائیوں میں 2014 میں سونی پکچرز پر حملہ، سال 2022 میں 62.0 کروڑ ڈالر کی کرپتو کرنسی چوری اور گزشتہ برس بائی بٹ ایکسچینج سے 1.5 ارب ڈالر کی چوری شامل ہے، جنہیں ایف بی آئی نے شمالی کوریا سے منسوب کیا تھا۔ بی بی سی کے مطابق، بائی بٹ کے واقعے کے بعد ایف بی آئی نے بتایا تھا کہ ٹ্রেডারٹریٹر نامی گروہ نے چوری شدہ اثاثوں کو تیزی سے بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں میں تبدیل کر کے کھپا دیا تھا۔
اس واقعے کی اہمیت
جیسے جیسے ڈیجیٹل اثاثے اور کرپتو کرنسی کے پلیٹ فارمز دنیا بھر میں پھیل رہے ہیں، اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے سائبر حملے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مرکزی ڈیجیٹل ایکسچینجز کتنی غیر محفوظ ہو سکتی ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی سکیورٹی پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ واقعہ ریاستوں کے خفیہ اداروں اور عالمی سائبر کرائم کے نیٹ ورکس کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کو عیاں کرتا ہے۔

