جب بھی ماحول دوست مستقبل کی بات ہوتی ہے تو عام طور پر بجلی سے چلنے والی گاڑیوں اور سورج یا ہوا سے بننے والی توانائی کا خیال آتا ہے، دودھ دینے والی گائیوں کا نہیں۔ لیکن پازیٹو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں دودھ کی صنعت کو موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے بچانے کے لیے ایک نئی اور خاموش جنگ جاری ہے، جس کا مقصد کھیتی باڑی کے طریقوں کو از سر نو ترتیب دینا ہے۔

پازیٹو نیوز کے مطابق شدید خشک سالی اور گرمی کی لہروں نے زراعت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے مئی اور جون کے دوران برطانوی فارمز سے دودھ کی ترسیل 19 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی۔ سومرسیٹ سے تعلق رکھنے والے نامور برانڈ 'یو ویلی آرگینک' (Yeo Valley Organic) کے فارمز کے ترقیاتی مینیجر ول میئر نے پازیٹو نیوز کو بتایا کہ ان کا سارا نظام زمین کی بہتری پر منحصر ہے، جس کے تحت وہ کیمیائی کھادوں کے بجائے زمین، جانوروں اور جنگی حیات کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے قدرت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

پازیٹو نیوز بتاتا ہے کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف (WWF) کے اعداد و شمار کے مطابق ریجنریٹیو زراعت یعنی زمین کی قدرتی زرخیزی بحال کرنے کے طریقے سے ہر سال برطانیہ کی سڑکوں سے 9 لاکھ کاریں کم کرنے جتنا کاربن کم کیا جا سکتا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف یو کے کی سپلائی چین کی سینئر پالیسی ایڈوائزر مئی کیسل نے پازیٹو نیوز کو بتایا کہ اگرچہ آرگینک اور ریجنریٹیو طریقوں کا مقصد شدید زراعت سے جان چھڑانا ہے، لیکن آرگینک کے ضابطے طے شدہ ہیں جبکہ ریجنریٹیو زراعت کی تعریف اب بھی وقت کے ساتھ واضح ہو رہی ہے۔

پس منظر

پازیٹو نیوز کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے 96 فیصد بالغ افراد باقاعدگی سے دودھ اور پنیر خریدتے ہیں۔ گھریلو طلب اور موسمی دباؤ کے باوجود پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے 'یو ویلی آرگینک' کے ہولٹ فارم جیسے ادارے ڈیری گائیوں کو اس نئے قدرتی نظام کا حصہ بنا رہے ہیں۔ پازیٹو نیوز کے مطابق اس طریقے میں گھاس، پھلی دار پودوں اور ایک ہی کھیت میں سورج مکھی سمیت 29 تک مختلف پودوں کے بیج بوئے جاتے ہیں۔ گائے ان پودوں کو چرتی ہیں اور انہیں روند کر زمین میں ملا دیتی ہیں جو کھاد کا کام کرتے ہیں اور زمین کی زرخیزی بڑھاتے ہیں۔ اس عمل سے شہد کی مکھیوں، تتلیوں اور دیگر حشرات الارض کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

دنیا بھر میں زرعی چیلنجز کا سامنا کرنے والے قارئین کے لیے، آب و ہوا کے مطابق ڈھلنے والی زراعت کی طرف یہ منتقلی اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات کے مطابق خوراک کی پیداوار کے طریقوں کو تبدیل کرنا اب کتنا ضروری ہو گیا ہے۔ قدرتی طور پر زمین کی زرخیزی بحال کرنے اور پٹرولیم سے بننے والے کیمیائی اجزاء پر انحصار کم کرنے کی وجہ سے، دنیا بھر کے زرعی شعبوں کو شدید موسمی حالات میں طویل مدتی پائیداری اور غذائی تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات کا سامنا ہے۔