جب زمین کے نیچے ہلچل مچتی ہے تو دنیا کی نگاہیں وہاں کے باسیوں کی خیریت پر ٹک جاتی ہیں۔ جی ڈی اے سی ایس (GDACS) کی رپورٹس کے مطابق، بحر الکاہل کے خطے میں واقع وانواتو کے جزائر میں زلزلوں کا ایک سلسلہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر صورتحال کی نگرانی کی جارہی ہے۔
جی ڈی اے سی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق، اس سلسلے کا آغاز 19 اکتوبر 2026 کو ہوا جب چند منٹ کے وقفے سے 5.7 شدت کے دو زلزلے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آئے۔ اس کے فوراً بعد 20 اکتوبر 2026 کو 6.3 شدت کا ایک اور نسبتاً طاقتور زلزلہ 16 کلومیٹر کی گہرائی میں محسوس کیا گیا۔ اس کے بعد 28 اکتوبر 2026 کو 5.5 شدت اور 10 کلومیٹر گہرائی کا ایک اور زلزلہ اس خطے میں ریکارڈ کیا گیا۔
پس منظر
جی ڈی اے سی ایس کے مطابق، وانواتو کے جزائر میں آنے والے ان تمام زلزلوں کو فی الحال 'گرین الرٹ' زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس درجے کا مطلب ہے کہ زلزلے کی شدت، متاثرہ آبادی اور ان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انسانی جان و مال کے نقصان کا امکان بہت کم ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی ارضیاتی سروے (USGS) اپنے 'پیجر' نظام کے ذریعے ہر زلزلے سے متوقع جانی نقصان کا تخمینہ لگاتا ہے، جبکہ اس حوالے سے ٹریکنگ سسٹمز پر گراف بھی دستیاب ہیں۔ جی ڈی اے سی ایس نے ان زلزلوں کے حوالے سے EC-JRC، NEIC، OCHA، USGS اور INFORM سمیت متعدد ذرائع سے معلومات اکٹھی کی ہیں۔
اس کی اہمیت کیا ہے
پاکستان میں بیٹھ کر عالمی سطح پر قدرتی آفات کی نگرانی کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے یہ رپورٹس اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ بین الاقوامی ادارے دنیا بھر میں زلزلوں کی سرگرمیوں کا مسلسل جائزہ کیسے لیتے ہیں۔ اگرچہ جی ڈی اے سی ایس کے مطابق بحر الکاہل کے ان زلزلوں سے انسانی نقصان کا اندیشہ کم ہے، لیکن یہ واقعات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ قدرتی آفات کا جائزہ لینے اور کمیونٹیز کو درپیش ممکنہ خطرات کاپتہ لگانے کے لیے عالمی سطح پر کون سے معیاری ضابطے استعمال کیے جاتے ہیں۔
