عالمی سطح پر ماحولیاتی خطرات پر نظر رکھنے والے نیٹ ورکس پر ایک بار پھر انتباہ گونج اٹھا ہے اور تمام تر توجہ آسٹریلیا میں جنگلات میں لگی آگ کے تازہ ترین جائزے پر مرکوز ہو گئی ہے۔ متعلقہ حکام اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اس واقعے کے انسانی زندگیوں پر اثرات قابو میں اور کم رہنے کی توقع ہے۔

گلوبل ڈیزاسٹر الرٹ اینڈ کوآرڈینیشن سسٹم (GDACS) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں جنگلات کی آگ کے پیش نظر ایک گرین نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ جی ڈی اے سی ایس (GDACS) کا کہنا ہے کہ آگ سے متاثرہ رقبے، وہاں کی آبادی اور ان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس واقعے کا انسانی مصائب اور اثرات کے لحاظ سے کم نقصان دہ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

جنگلات کی آگ کے ان اعداد و شمار کے علاوہ جی ڈی اے سی ایس نے دنیا بھر میں ڈیزاسٹر مانیٹرنگ کے دیگر اداروں کے ساتھ اپنے اشتراک کار کا بھی ذکر کیا ہے۔ یو ایس جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق زلزلوں سے ہونے والے جانی نقصان کے تخمینے 'پیجر' (PAGER) نامی سسٹم کے تحت تیار کیے جاتے ہیں، جن کے ساتھ موجودہ اموات کے تخمینوں پر مبنی گراف بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جی ڈی اے سی ایس نے واضح کیا کہ ان تمام حادثات اور واقعات کے بارے میں معلومات کئی اہم ذرائع سے حاصل کی جاتی ہیں، جن میں ای سی جے آر سی (EC-JRC)، عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) اور انفارم (INFORM) جیسے ادارے شامل ہیں۔

پس منظر

جی ڈی اے سی ایس (GDACS) کے ریکارڈ کے مطابق ڈیزاسٹر مانیٹرنگ کے نظام تسلسل کے ساتھ متاثرہ رقبے اور آبادی کی ریزیلینس جیسے پیمانہ جات کی مدد سے آفات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس نظام میں بین الاقوامی اداروں بشمول ای سی جے آر سی، ڈبلیو ایم او اور انفارم کے فراہم کردہ ڈیٹا کو شامل کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ یو ایس جیولوجیکل سروے کے پیجر زلزلہ تخمینے اور گرافیکل رپورٹس بھی اس کا حصہ ہوتی ہیں۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

بین الاقوامی مبصرین اور عالمی سطح پر آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینے والی برادریوں کے لیے یہ جاننا انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ جی ڈی اے سی ایس جیسے ادارے انسانی اثرات کا تخمینہ کس طرح لگاتے ہیں۔ متاثرہ رقبوں، آبادی کی حساسی اور مختلف اداروں کے اشتراک سے حاصل کردہ ڈیٹا کا یہ تجزیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قدرتی آفات کے پھیلاؤ اور شدت کو محفوظ اور درست انداز میں جانچنے اور آگے پہنچانے کی کوششیں کس طرح جاری ہیں۔