سیاسی اتحاد میں کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو چیلنج کیا کہ وہ صوبے میں کرپشن کے الزامات ثابت کریں ورنہ ہتک عزت کے مقدمے کا سامنا کریں۔ جیو نیوز کے مطابق، وزیراعلیٰ نے اٹک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سے مطالبہ کیا کہ وہ ہوائی باتیں کرنے کے بجائے ثبوت سامنے لائیں۔
جیو نیوز کے مطابق، سی ایم مریم نے سوال اٹھایا کہ اگر سالک حسین کو سچ مچ لگتا ہے کہ صوبائی حکومت کرپٹ ہے تو وہ اب تک وفاقی کابینہ میں کیوں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے اس تنقید کا تعلق بیوروکریسی کی تقرریوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر ناراض ہیں کہ گجرات میں ان کی پسند کے افسر کو ڈپٹی کمشنر تعینات نہیں کیا گیا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب میں تقررییاں صرف میرٹ پر ہوتی ہیں اور سیاسی سفارشیں ماننا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
جیو نیوز کے مطابق، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے اس کا فوری جواب دیتے ہوئے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے گجرات کے ڈپٹی کمشنر سے متعلق وزیراعلیٰ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسی کوئی فرمائش نہیں کی تھی اور متعلقہ ضلع میں پہلے ہی ایک افسر تعینات ہے۔ سالک حسین کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کرپشن واقعی ہو رہی ہے اور جو لوگ اقتدار میں ہیں انہیں عاجزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
پس منظر
جیو نیوز کے مطابق، یہ سیاسی تلخی منگل کے روز اٹک میں ایک سرکاری تقریب کے دوران سامنے آئی جہاں وزیراعلیٰ مریم نواز نے سیاسی صورتحال اور گڈ گورننس پر بات کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے دور حکومت کا ذکر کرتے ہوئے گجرات کے دورے کا حوالہ دیا جب بارش کے دوران انہوں نے وہاں شدیدپانی جمع ہونے کا مشاہدہ کیا تھا۔
اس کی اہمیت کیا ہے
پاکستان کے عام شہریوں کے لیے حکمران اتحادیوں کے درمیان عوامی جھگڑے انتظامی امور اور گورننس کے نازک توازن کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اس گرما گرمی نے شفافیت، بیوروکریسی کی تقرریوں میں میرٹ اور جوابدہی کے سوالات کو ایک بار پھر بحث کا حصہ بنا دیا ہے، جس سے شہری صوبائی اور وفاقی سطح پر سرکاری کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

