خیبر پختونخوا کی سیاسی فضا میں ایک اہم موڑ اس وقت سامنے آیا جب صوبائی قانون سازوں نے محاذ آرائی کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دی۔ جیو نیوز کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبر پختونخوا پارلیمانی پارٹی نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو ختم کرانے کے لیے مرکز کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کی ہے۔

صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اس آن لائن اجلاس میں 40 سے زیادہ ارکان نے شرکت کی اور موجودہ سیاسی تعطل سے نکلنے کے راستے تلاش کیے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس اجلاس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، نور الحق قادری اور علی امین گنڈاپور بھی شریک ہوئے۔

جیو نیوز کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اجلاس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • پارلیمانی پارٹی کا موقف تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی کا مینڈیٹ بحال ہو جائے گا۔
  • کچھ ارکان نے وفاقی حکومت سے مذاکرات کے لیے مشاورت کے عمل میں علی امین گنڈاپور کو شامل کرنے کی تجویز دی، اور کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے نمائندے کی موجودگی سے معاملات باہمی مشاورت سے آگے بڑھ سکیں گے۔
  • بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اکثر ارکان بھی وفاقی حکومت کے ساتھ بات چیت کے حق میں ہیں۔
  • نور الحق قادری نے مشکل حالات میں صبر اور استقامت کی ضرورت پر زور دینے کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی حمایت بھی کی۔
  • پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی کم کرے اور گورنر راج اور ایمرجنسی کو ہٹائے، جبکہ یہ بھی کہا کہ اگر علی امین گنڈاپور پارٹی کی پسند ہیں تو ان کی شمولیت پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
  • ذرائع کے مطابق ارکان نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کارکنان کو احتجاج کے لیے سڑکوں پر نہ نکالنے کے فیصلے کی تائید کی تاکہ 9 مئی جیسے واقعات سے بچا جا سکے۔
  • شوکت یوسفزئی نے پارٹی کو ریاستی اداروں کے خلاف دیے گئے کسی بھی بیان سے بھی الگ کیا۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق یہ مشاورت خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان حالات میں پارٹی قیادت نے اپنی حکمت عملی کا جائزہ لیا اور بدامنی سے بچنے کے لیے سڑکوں پر احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ صبر، استقامت اور سیاسی وابستگی پر زور دیا۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

عام شہریوں اور مبصرین کے لیے بات چیت کا یہ رجحان علاقائی سیاست میں کشیدگی کم کرنے کی ایک ممکنہ کوشش ظاہر کرتا ہے۔ محاذ آرائی کے بجائے پارلیمانی مشاورت کو ترجیح دے کر، سیاسی فریقین موجودہ آئینی اقدامات کے تحت انتظامی استحکام اور خیبر پختونخوا کی گورننس کے حوالے سے اہم فیصلوں کا سامنا کر رہے ہیں۔