وفاقی دارالحکومت کے ایوانوں سے ایک سخت پیغام سامنے آیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے قومی ایجنڈے پر ساتھ نہ دینے والی سیاسی جماعتیں خود بخود حاشیے پر چلی جائیں گی۔ جیو نیوز کے پروگرام 'جیو پاکستان' میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ ن کے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کی زندگیاں بہتر بنانے اور سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔
جیو نیوز کے مطابق، رانا ثناء اللہ کے یہ ریمارکس پشاور میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد سامنے آئے، جس میں علاقائی امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات کے نفاذ کے بعد وزیراعظم کا یہ اس صوبے کا پہلا دورہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزرا اور نوتعینات صوبائی مشیران نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے صوبے میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یاد دلایا کہ یہ خطہ کبھی امن کا گہوارہ تھا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اس وقت صوبے میں انتظامی امور سنبھالنے والی وفاقی حکومت ترقی کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔
رانا ثناء اللہ نے جیو نیوز کو مزید بتایا کہ جو بھی سیاسی جماعت انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مخلصانہ طور پر کھڑی نہیں ہوگی، اسے سیاسی دھارے سے باہر کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے 160 ارب روپے کی درخواست کی تھی، جسے وزیراعظم شہباز شریف نے فوری طور پر منظور کر لیا۔
پس منظر
حالیہ سیاسی اور سیکیورٹی پیش رفت 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پشاور کا دورہ کر کے وفاقی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی اور عسکری و سول قیادت کے ہمراہ سیکیورٹی خدشات اور صوبائی امور کا جائزہ لیا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی اور گورننس کا براہ راست تعلق خطے کے لاکھوں باسیوں کی جان و مال کے تحفظ، روزمرہ زندگی اور معاشی ترقی سے ہے۔ وفاقی قیادت کی جانب سے انسداد دہشت گردی پر اتحاد اور صوبائی فنڈز کی منظوری کے بیانات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ صوبے میں اس وقت جاری وفاقی نگرانی کے تحت کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

