ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق منگل کے روز عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی جب تاجروں نے سفارتی کوششوں اور جاری علاقائی تنازعات کا جائزہ لیا۔ برینٹ کروڈ کے سودے 108.79 ڈالر فی بیرل پر طے ہوئے، جو اس سے قبل پانچ ماہ کی سب سے اونچی سطح 111.99 ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔ مارکیٹ کی یہ ہلچل خطے میں ہونے والی اعلیٰ سطح کی سفارتی سرگرمیوں کے ردعمل میں سامنے آئی۔

ایکسپریس ٹریبون کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور چیف آف ڈیفنس فورسز اینڈ چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں ملاقات کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ایران کے خبر رساں ادارے نورنیوز کے حوالے سے بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں ثالثی کی کوششوں اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ایکسپریس ٹریبون نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اس کردار کو اجاگر کیا جو وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر ادا کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کا نومبر کا معاہدہ 1.87 ڈالر کم ہو کر 101.79 ڈالر پر بند ہوا جبکہ سیشن کے دوران یہ 110.48 ڈالر تک گیا تھا۔ اسی طرح دسمبر کا زیادہ فعال معاہدہ 72 سینٹ کمی کے ساتھ 97.82 ڈالر فی بیرل پر طے ہوا۔ آئی این جی (ING) کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں کو اب بھی مضبوط سہارا حاصل ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کے باعث خطرے کا پریمیم شامل کر رہی ہے۔ دوسری جانب، شپ ٹریکر کیپلر کے مطابق دو ہفتوں کے دوران کم از کم 18 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس سے خطرے کا یہ عنصر برقرار ہے۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق حوثی فورسز نے سعودی توانائی، ائیرپورٹ اور فوجی تنصیبات پر کئی حملے کیے، تاہم سعودی حکام نے فوری طور پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی اور روئٹرز بھی ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ ایکسپریس ٹریبون نے مزید بتایا کہ یمن کے صوبے شبوہ میں سیکیورٹی فورسز کے تربیتی کیمپ پر حوثیوں کے ایک حملے میں 58 افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے، اور بعد میں مرنے والوں کی تعداد 73 تک پہنچ گئی۔

پس منظر

پاکستان کی اس سفارتی مہم کی بنیاد ان پہلے کی کوششوں پر تھی جن کے نتیجے میں جون میں ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، تاہم ایکسپریس ٹریبون کے مطابق چند ہفتے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے یہ معاہدہ کمزور ہو گیا۔ اسی دوران دیگر جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں بھی برقرار رہیں؛ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹاسک (ڈونلڈ ٹرمپ) سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد ایرانی حکومت کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا، جیسا کہ ایکسپریس ٹریبون نے رپورٹ کیا۔ رسد کے حوالے سے کیپلر اور ایل ایس ای جی کے شپنگ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی پابندیاں معطل ہونے اور برآمدی پابندی ہٹنے کے بعد روسی ڈیزل کارگو روایتی منزلوں کی طرف واپس آ رہے ہیں، اور کم از کم دو ٹینکرز نے ترکی اور برازیل کا رخ کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ، پنسلوانیا میں ڈ্রেক فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی انڈر سیکرٹری برائے توانائی کائل ہوسٹویٹ نے کہا کہ امریکہ ملکی ریفائنریوں کے ساتھ مل کر تیل کی پروسیسنگ بڑھانے پر کام کر رہا ہے، اور امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے بھی اسی عزم کا اظہار کیا۔

یہ اہم کیوں ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی معیشتوں پر پڑتا ہے جہاں توانائی کی درآمدی لاگت اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگرچہ اعلیٰ سطح کی سفارتی کوششوں کا مقصد علاقائی کشیدگی کو کم کرنا ہے، لیکن سپلائی کے راستوں میں رکاوٹیں اور سیاسی تناؤ یہ ظاہر کرتا ہے کہ توانائی کی مارکیٹیں مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں۔