عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل چوتھے ماہ بھی اضافے کی جانب گامزن ہیں جس کی بڑی وجہ تخنہ ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر ہونے والا دھماکہ اور اس کے نتیجے میں رس رسد کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔ دی ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق، روئٹرز اور دیگر ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ طویل عرصے سے جاری اس کشیدگی نے توانائی کی سپلائی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

اہم حقائق

  • قیمتوں میں اضافہ: دی ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق، دسمبر کے لیے برینٹ کروڈ کے سودے 1.20 ڈالر یا 1.04 فیصد اضافے کے ساتھ 116.08 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ جنوری کے کنٹریکٹ میں 1.39 ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ 112.19 ڈالر پر بند ہوئے۔ اس کے علاوہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے سودے 1.37 ڈالر یا 1.34 فیصد اضافے سے 103.37 ڈالر پر جا پہنچے۔
  • ماہانہ رجحان: دی ایکسپریس ٹریبون کے مطابق، اس ماہ برینٹ کروڈ میں تقریباً 11 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 14 فیصد تک نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
  • تخنہ ہرمز میں حملہ: یو کے ایم ٹی او (UKMTO) کی اطلاع کے حوالے سے ایکسپریس ٹریبون نے بتایا کہ تخنہ ہرمز میں ایک چھوٹی کشتی کے ذریعے نصب کیے گئے بارودی مواد سے ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس کارروائی کے پیچھے کون ملوث تھا۔
  • علاقائی حملے: ایکسپریس ٹریبون نے نوٹ کیا کہ جمعرات کے روز حوثیوں نے سعودی عرب میں متعدد مقامات پر حملوں کا دعویٰ کیا جن میں راس تنورہ ریفائنری، رابغ ریفائنری اور سعودی آرامکو کی ابقائیع میں واقع پیداواری تنصیب شامل تھی، جبکہ سعودی اتحاد کا کہنا تھا کہ اس نے ایک کروز میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
  • سفارتی رابطے: دی ایکسپریس ٹریبون کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے طبی سازوسامان کے معاملے پر ایران سے رابطہ کیا ہے۔ امریکی میڈیا میں تہران کے سیکیورٹی اہلکار کو امن مذاکرات کی بحالی کے لیے خط بھیجے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے تصدیق کی کہ تہران کو خط موصول ہو چکا ہے لیکن اس پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا اور یہ اصرار کیا گیا ہے کہ امریکہ کو اپنی شرائط پوری کرنی چاہئیں۔
  • کارپوریٹ اور مارکیتی ردعمل: روئٹرز کے حوالے سے ایکسپریس ٹریبون نے بتایا کہ دو ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسন موبل اور شیوران نے متحدہ عرب امارات میں توانائی کی ایک بڑی نمائش کے لیے اپنے اعلیٰ حکام کے دورے منسوخ کر دیے ہیں۔ سنگاپور میں ایک بریفنگ کے دوران سیکسو بینک کے اول ہینسن نے کہا کہ پارلیمانی اور وسطی مدتی انتخابات مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

پس منظر

دی ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق یہ معاشی دباؤ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تخنہ ہرمز کے ارد گرد جاری فوجی کارروائیاں، جو کہ خلیجی تیل اور ایندھن کی ترسیل کا بنیادی بحری راستہ ہیں، اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات قیمتوں کو اونچی سطح پر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ صنعت سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ تنازعہ ختم ہونے کے بعد بھی تیل مستقل طور پر بلند قیمتوں پر فروخت ہوتا رہے گا کیونکہ مستقبل میں دوبارہ جھڑپوں کا خطرہ اور ذخیروں کو دوبارہ بھرنے کی ضرورت بدستور موجود رہے گی۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان کے قارئین کے لیے بین الاقوامی سطح پر خام تیل کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست گھریلو توانائی کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور ملک بھر میں مہنگائی کے عمومی دباؤ پر اثرانداز ہوتا ہے، جو کہ درآمد شدہ پٹرولیم مصنوعات پر پاکستان کے شدید انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا

ماخذ میں مذکورہ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، آنے والے ہفتوں میں خطے اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی سرگرمیوں کے پیش نظر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جبکہ مارکیٹ کے شرکاء مشرق وسطیٰ میں سفارتی پیشرفت اور سیکیورٹی کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔