ملکی سیاسی میدان میں کشیدگی برقرار ہے اور وفاقی قیادت نے سیاسی دباؤ کے آگے جھکنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد میں روئٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی تو جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کوئی ریلیف نہیں دیا جائے گا۔
دباؤ اور بلیک میلنگ کے خلاف سخت موقف
20 اکتوبر 2025 کو دیے گئے اس انٹرویو میں سینئر وزیر نے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا کہ ریاست کسی بیرونی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکے گی یا سیاسی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہوگی۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ریاستی امور آئینی راستوں کے ذریعے چلائے جانے چاہئیں نہ کہ احتجاجی سیاست یا جبر کے ذریعے۔ ان کے اس بیان سے حکمران اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان جاری اس کشمکش کا اندازہ ہوتا ہے جس میں سیاسی ماحول بدستور پولرائزڈ ہے۔
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کے چیلنجز
قومی سیاست کے علاوہ وزیر دفاع نے ملک کو درپیش سنگین سیکیورٹی مسائل کا بھی ذکر کیا۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں۔ صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر اس قسم کے بیانات اس پیچیدہ انسداد دہشت گردی کے منظر نامے کو ظاہر کرتے ہیں جس کا سامنا وفاقی اور صوبائی اداروں کو ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس خطے میں مسلسل چیلنجز سے نبرد آزما ہیں۔
سیاسی استحکام کے لیے بات چیت کی اپیل
ان سیاسی اور سیکیورٹی دباؤ کے درمیان وفاقی حکومت نے وسیع تر سیاسی رابطوں کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق خواجہ آصف نے محمود خان اچکزئی سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کے لیے ایک تعمیراتی کردار ادا کریں۔ سیاسی شخصیات کو سسٹم کے اندر رہ کر کام کرنے کی یہ اپیل اس خواہش کی عکاس ہے کہ تمام تر سیاسی تقسیم کے باوجود گفت و شنید کے ذریعے میدان کو پرامن بنایا جائے۔

