حکومت کی طرف سے مزید مہلت مانگے جانے کے باوجود جماعت اسلامی نے اپنے فیصلے پر ڈٹے رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ احتجاجی تیاریوں میں کوئی کمی نہیں لائی جائے گی۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے منگل کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد بھی پارٹی نے اپنے شیڈول میں تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی طرف مارچ ہر صورت کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے مذاکرات کے دوران مزید 7 سے 10 دن کی مہلت طلب کی تھی۔ دونوں فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات پر عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، لیکن اس ریلیف کی فراہمی کے طریقے پر اہم اختلافات تاحال برقرار ہیں۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم لیوی کو فی الفور ختم کیا جائے، جبکہ سرکاری مؤقف ہے کہ اس ٹیکس کا خاتمہ مرحلہوار طریقے سے کیا جانا چاہیے۔ حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی ایک واضح لائحہ عمل طے کیا جائے اور عوام کے لیے ریلیف پیکج کا باقاعدہ اعلان کیا جائے۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق یہ مذاکرات جماعت اسلامی کی طرف سے دیے گئے احتجاجی دباؤ کے بعد سامنے آئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے عوامی احتجاج کی وجہ سے اپنے مؤقف پر نظرثانی کی ہے، کیونکہ پٹرولیم لیوی کی وجہ سے نچلے اور متوسط طبقے پر مالی بوجھ ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران حافظ نعیم نے موجودہ حالات میں مذاکرات کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت تو اسی سے کرنی پڑتی ہے جس کے پاس اقتدار ہو، اور اس صورتحال کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ہائی جیکنگ کے دوران بات چیت کر رہا ہو۔

اس پیشرفت کی اہمیت

یہ کشمکش اس بحث کو سامنے لاتی ہے جو ملک میں فیول پر ٹیکسوں اور حکومتی ریلیف کے حوالے سے جاری ہے۔ جماعت اسلامی نے تنبیہ کی ہے کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو دھرنے کی صورت میں احتجاج کو مزید تیز کیا جا سکتا ہے۔ اس تمام صورتحال کے براہ راست اثرات سیاسی استحکام، عام شہریوں کی نقل و حرکت اور ملک بھر کے متوسط و غریب خاندانوں کی معاشی حالت پر مرتب ہوں گے۔