بظاہر سیاسی تلخی کی فضا لیکن پردے کے پیچھے رابطے کیسے جاری ہیں؟ جیو نیوز کے پروگرام 'آج شاہزب خانزادہ کے ساتھ' میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفون اور پارلیمنٹ کے ایوانوں میں غیر رسمی اور آف دی ریکارڈ رابطے موجود ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے جیو نیوز کے مطابق انکشاف کیا کہ حکومت اس وقت پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں سے وقتاً فوقتاً رابطے میں ہے۔ تاہم انہوں نے ان رہنماؤں کے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ نام بتانے سے ان افراد کو اپنی ہی جماعت کے اندر مشکلات اور اعتبار کا بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ غیر رسمی بات چیت کسی ٹھوس شکل میں ڈھل جائے گی تو اسے باضابطہ مذاکرات کی طرف بڑھایا جا سکتا ہے۔

مشیر سیاسی امور کے مطابق پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات ماضی کی مذاکراتی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنے ہیں۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو اراکین سابقہ مذاکرات کی کامیابی چاہتے تھے انہیں پارٹی کے اندر ٹرولنگ اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے وہ کھل کر اپنی رائے کا اظہار نہیں کر سکے۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان یہ غیر رسمی رابطے وقفے وقفے سے جاری رہے ہیں۔ اس ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پہلا قدم وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی ملاقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات سے گریز کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جیو نیوز کے توسط سے کہا کہ اس مؤقف کی کوئی منطق نہیں بنتی، کیونکہ اس سے پہلے وزیراعظم خود ایوان میں اپوزیشن لیڈر کی نشست پر جا چکے ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ تحریک انصاف کی طرف سے اپنی پالیسی یا طرزِ عمل میں تبدیلی کا کوئی باضابطہ یا غیر رسمی اشارہ نہیں ملا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق انہوں نے زور دیا کہ اپوزیشن لیڈر کو پہلے وزیراعظم سے ملاقات کرنی چاہیے اور پی ٹی آئی کو ان پارلیمانی کمیٹیوں میں بھی واپس آنا چاہیے جن کا بائیکاٹ کیا گیا ہے، حالانکہ وہ ایوان کا حصہ ہیں۔

سیاسی منظر نامے پر اس کے اثرات

پاکستانی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے عام شہریوں کے لیے یہ پس پردہ رابطے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ عوامی محاذ آرائی کے باوجود بات چیت کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود، صرف غیر رسمی رابطوں پر انحصار اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان گہرے اختلافات برقرار ہیں اور کسی متفقہ لائحہ عمل کی عدم موجودگی کی وجہ سے سیاسی تنازعات تحال حل طلب ہیں۔