عالمی مارکیت میں جاری اتار چڑھاؤ کے اثرات اب براہ راست مقامی پمپس پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں موٹر سورس اور عام شہری آئے روز تیل کی نئی قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ دی ایکسپریس ٹ্রিبیون کی رپورٹ کے مطابق، وفاقی حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2.71 روپے کی کمی کی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 31 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس ردوبدل کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 379.31 روپے اور ڈیزل کی قیمت 390.11 روپے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔
دی ایکسپریس ٹ্রিبیون کی رپورٹس کے مطابق اس سے قبل بھی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں۔ اس سلسلے میں 21 اکتوبر کو ہونے والے اضافے میں پیٹرول 88 پیسے اور ڈیزل 53 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا تھا، جبکہ اکتوبر کے وسط میں ہونے والی ایک اور ایڈجسٹمنٹ میں پیٹرول کی قیمت میں 3.63 روپے فی لیٹر کمی اور ڈیزل کی قیمت میں 31 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
پس منظر
دی ایکسپریس ٹ্রিبیون کی رپورٹس کے مطابق، حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے عدم استحکام اور رسد کے خدشات کے پیش نظر 17 جولائی سے ہفتہ وار نظام کو ختم کر کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کا نیا میکانزم نافذ کیا تھا۔ تیل کی عالمی منڈی میں یہ ہلچل امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پیدا ہوئی تھی۔
کم آمدنی والے طبقے کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے بچانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو ایک خصوصی ریلیف اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والے رکشوں اور 800cc تک کی چھوٹی گاڑیوں کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دی گئی ہے۔ اس تجویز سے اندازاً 11.8 ملین افراد مستفید ہوں گے، جن کے لیے دو پہیوں، تین پہیوں اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کی ماہانہ حد مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، کابینہ ڈویژن نے 17 ستمبر کو ملک بھر میں مارکیٹوں، شاپنگ مالز اور تجارتی مراکز کے اوقاتِ کار محدود کرنے کے لیے بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پر دوبارہ عمل درآمد شروع کیا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے؟
پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر ہونے والی جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں مقامی ایندھن کی قیمتوں کو شدید متاثر کرتی ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کے نرخ اوپیک پلس (OPEC+) کے فیصلوں، مشرق وسطیٰ کے تنازعات، پابندیوں اور آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے اہم بحری راستوں میں رکاوٹوں کی وجہ سے طے ہوتے ہیں۔ قیمتوں میں روزانہ کی یہ تبدیلیاں اور بچت کے اقدامات ملک بھر کے شہریوں کی روزمرہ نقل و حمل، سفری اخراجات اور تجارتی کاروبار کے اوقات پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں۔

