منگل کی صبح ایک دلخراش واقعے میں کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کی تمام 14 بوگیاں ملتان میں شیر شاہ پل کے قریب پٹڑی سے اتر گئیں، جیو نیوز کے مطابق اس حادثے میں 5 مسافر جاں بحق اور 30 زخمی ہو گئے۔ یہ المناک واقعہ صبح تقریباً 5 بجکر 15 منٹ پر پیش آیا، جس کے بعد جائے وقوعہ پر افراتفری پھیل گئی اور ہنگامی خدمات کے ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔
پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق زخمی مسافروں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ملتان کے نشتر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ریسکیو ٹیموں نے پٹڑی سے اترنے والی 13 بوگیوں کو ہٹا دیا جبکہ آخری بوگی کو ہٹانے کا آپریشن جاری رہا۔ اس دوران ایک مسافر نے میڈیا کو بتایا کہ حادثے سے قبل روہڑی کے قریب کوچ نمبر نو کے نٹ بولٹس کی مرمت کی گئی تھی، جبکہ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی کہ ٹرین کراچی سے پشاور جا رہی تھی۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اس حادثے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ امدادی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ تاحال ٹرین کے پٹڑی سے اترنے کی اصل وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے اور توقع ہے کہ ریلوے حکام تحقیقات کے بعد مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔
پس منظر
جیو نیوز کے مطابق یہ المناک واقعہ پاکستان میں ریلوے کے سنگین حادثات کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔ اس سے قبل اگست 2023 میں سندھ کے شہر نوابشاہ کے قریب ہزارہ ایکسپریس کے حادثے میں کم از کم 30 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جس نے ریلوے کے بنیادی ڈھانچے اور مسافروں کی حفاظت پر پرانے سوالات کو ایک بار پھر تازہ کر دیا تھا۔
اس حادثے کی اہمیت کیوں ہے؟
پاکستان کے عام شہریوں کے لیے جو سستے سفر کی غرض سے ریلوے پر انحصار کرتے ہیں، اس نوعیت کے بار بار پیش آنے والے حادثات مسافروں کی سلامتی، پٹڑیوں کی حالت اور دیکھ بھال کے نظام پر شدید سوالات اٹھاتے ہیں۔ اس صورتحال میں فوری امدادی کارروائیاں اور شفاف تحقیقات عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

