حافظ آباد میں ایک فلائی اوور کے قریب مسافر بس بے قابو ہو کر نالے میں جا گری، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جاں بحق اور 27 سے زائد زخمی ہو گئے۔ جیو نیوز کے مطابق یہ بس مسافروں کو لے کر رائیونڈ سے چنیوت جا رہی تھی تاکہ تبلیغی اجتماع میں شرکت کی جا سکے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق ابتدائی طور پر یہ ہولناک حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔

پس منظر

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، سڑکوں پر بڑھتے ہوئے حادثات اور حفاظتی اقدامات کی صورتحال تشویشناک رہی ہے۔ اس سے قبل جون 2026 میں لاہور کے علاقے دھرم پورہ چونگی پھاٹک کے قریب تیز رفتار مسافر وین نہر میں گرنے سے 7 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اسی طرح اگست 2022 میں حافظ آباد کے قریب سلانگی کھرل کے نزدیک ایک اور مسافر بس تالاب میں گر گئی تھی جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہوئے تھے، اور ریسکیو حکام نے اس حادثے کی وجہ بھی تیز رفتاری کو قرار دیا تھا۔ پنجاب ٹریفک پولیس کی ہدایات کے مطابق بس اور ٹرک ڈرائیوروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ رفتار کی حد کا خیال رکھیں، گاڑیوں کی فٹنس کو یقینی بنائیں اور اوور لوڈنگ سے گریز کریں۔

اہمیت اور ضرورت

تیز رفتاری کے باعث پیش آنے والے یہ بار بار کے حادثات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پنجاب ٹریفک پولیس کے حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کتنا ضروری ہے۔ پاکستان بھر میں عام مسافروں اور خاندانوں کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے گاڑیوں کی دیکھ بھال، رفتار کے قوانین کی پاسداری اور احتیاط ناگزیر ہے تاکہ سڑکوں پر قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔