دنیا کے مختلف حصوں میں بدلتے ہوئے موسمی حالات کے پیش نظر بین الاقوامی مانیٹرنگ ادارے مسلسل سمندری طوفانوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جی ڈی اے سی ایس (GDACS) کے اعداد و شمار کے مطابق مختلف سمندری طوفانوں کے لیے گرین اور اورنج الرٹ جاری کیے گئے ہیں تاکہ آبادیوں کو خطرات سے آگاہ رکھا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق شمالی بحر ہند کے خطے میں یکم نومبر 2026 کو ایک طوفان فعال رہا جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 93 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔ جی ڈی اے سی ایس کے مطابق اس طوفان سے بھارت متاثر ہوا اور اسے زیادہ خطرے والا خطہ قرار دیا گیا، تاہم 120 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار والی ہواؤں سے متاثر ہونے والی آبادی کا تخمینہ صفر لگایا گیا۔

اسی طرح شمال مغربی بحر اوقیانوس میں 25 اکتوبر 2026 کو ایک اور طوفان سرگرم رہا جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 213 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچی۔ اس طوفان کی زد میں مارشل آئلینڈز اور شمالی ماریانا آئلینڈز آئے، جنہیں زیادہ خطرے والے علاقوں میں شمار کیا گیا ہے، جبکہ کیٹگری ایک کی ہواؤں سے متاثرہ آبادی یہاں بھی صفر رہی۔

وسطی بحر الکاہل میں 25 اکتوبر 2026 کو ایک طوفانی ڈپریشن دیکھا گیا جس کی رفتار 65 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ اس طوفان کے حوالے سے متعلقہ ملک اور خطرے کی نوعیت کا ڈیٹا واضح نہیں ہے اور اس سے بھی کسی آبادی کے متاثر ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔

اس کے برعکس، جی ڈی اے سی ایس نے طوفان نمبر TWO-26 یا ARNAB-26 کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ اس طوفان کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کے انسانی اثرات زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کی ہواؤں کی رفتار اور متاثرہ آبادی کا تخمینہ 0.356 ملین افراد تک لگایا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موسمی جائزوں کے ساتھ یو ایس جی ایس (USGS) زلزلوں کے حوالے سے بھی تخمینے جاری کرتا ہے جبکہ اس ڈیٹا کی تیاری میں EC-JRC، DesInventar، WMO اور INFORM جیسے ادارے تعاون کرتے ہیں۔

پس منظر

موصولہ معلومات کے مطابق یہ موسمی واقعات 25 اکتوبر سے یکم نومبر 2026 کے دوران شمالی بحر ہند، شمال مغربی بحر اوقیانوس اور وسطی بحر الکاہل کے علاقوں میں پیش آئے۔ ان طوفانوں کی شدت میں واضح فرق دیکھا گیا، جہاں ایک طرف 65 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والا ڈپریشن تھا تو دوسری طرف 213 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والا طوفان بھی ریکارڈ کیا گیا۔ جی ڈی اے سی ایس کی جانب سے کم خطرے والے طوفانوں پر گرین الرٹ جبکہ زیادہ آبادی کو متاثر کرنے والے طوفان 'آرنب 26' پر اورنج الرٹ جاری کیا گیا۔

یہ اہم کیوں ہے؟

پاکستانی قارئین کے لیے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ان موسمی نگرانی کی رپورٹس سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ عالمی ادارے کس طرح طوفانوں کے خطرات اور آبادی کی حفاظت کا تخمینہ لگاتے ہیں۔ اس طرح کے جائزوں سے عالمی سطح پر ہنگامی تیاریوں اور رسپانس کے نظام کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔