مہینوں کی طویل پابندیوں اور مشکلات کے بعد بالآخر پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کو اڈیالہ جیل کے اندر اپنی قیادت سے مشاورت کا ایک مختصر موقع مل ہی گیا۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے بتایا کہ بار بار کی درخواستوں کے بعد اڈیالہ جیل حکام نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ساتھ 40 منٹ کی ملاقات کرائی۔
جیو نیوز کے مطابق یہ ملاقات شام 4:30 بجے ہوئی۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے بتایا کہ وہ سابق وزیر اعظم سے 7 ماہ اور بشریٰ بی بی سے 11 ماہ کے طویل وقفے کے بعد ملے۔ اگرچہ تمام زیر التوا قانونی مقدمات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے یہ وقت ناکافی تھا، تاہم دونوں شخصیات نے اپنے وکیل کو صحت، رہائشی حالات اور مخصوص مقدمات کے حوالے سے تازہ ہدایات دیں۔
پس منظر
جیو نیوز کے مطابق بانی پی ٹی آئی اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور اپریل 2022 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے وہ متعدد کرپشن اور دہشت گردی کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ اس وقت القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ بلغاری جیولری سیٹ کیس میں سزائیں کاٹ رہے ہیں، جبکہ توشہ خانہ کے دو دیگر ریفرنسز میں سزائیں اپیلوں پر التوا کا شکار ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق انہیں 9 مئی 2023 کے پُرتشدد واقعات سے جڑے قانونی مقدمات کا بھی سامنا ہے، جن الزامات کو پارٹی مسلسل سیاسی نوعیت کا قرار دے کر مسترد کرتی رہی ہے۔
اکتوبر کے مہینے میں اس وقت سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا جب پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف لانچ مارچ شروع کیا، جو کہ جیو نیوز کے مطابق ہنگامی اقدامات کی وجہ سے اب فعال نہیں رہے۔ لکی مروت سے 4 اکتوبر کو شروع ہونے والے ان مظاہروں میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور ان کے ذاتی معالج سے طبی معائنے سمیت طبی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اس کے جواب میں جیو نیوز نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر کے گورنر راج لگا دیا۔ وفاقی حکومت نے صوبائی انتظامیہ کو معطل کرنے کی بنیاد سیکیورٹی خدشات اور انسداد دہشت گردی کے نقائص کو بنایا، جس کے نتیجے میں سہیل آفریدی اور کئی کابینہ ارکان کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا جبکہ جنید اکبر سمیت صوبائی پارٹی شخصیات کی گرفتاریوں کی بھی اطلاعات آئیں جیو نیوز کے مطابق۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بعد میں تصدیق کی کہ الزامات کا سامنا کرنے والے زیر حراست افراد کا ٹرائل کیا جائے گا جبکہ دیگر کو رہا کر دیا جائے گا۔ مزید برآں، جیو نیوز نے رپورٹ کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ستمبر 2026 میں جیل حکام کو ہدایت کی تھی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی تنہائی ختم کی جائے اور جیل کے قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان بھر کے عام شہریوں اور قانونی مشاہدین کے لیے، سیاسی شخصیات تک رسائی اور جیل کے قوانین کا نفاذ عدالتی عمل اور ادارہ جاتی شفافیت کے ارد گرد جاری بحثوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جیسا کہ پارٹی ارکان اور فیملی کی طرف سے بلا روک ٹوک رسائی کے لیے مسلسل اپیلوں میں اجاگر کیا گیا ہے، قانونی نمائندوں کی زیر حراست رہنماؤں سے براہ راست ملاقات کرنے کی صلاحیت براہ راست جاری قانونی کارروائیوں اور وسیع تر سیاسی فضا کو متاثر کرتی ہے۔

