امریکہ میں منگل کے روز ہونے والے اہم وسطی مدتی انتخابات کے لیے پولنگ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جس پر دنیا بھر کے سیاسی حلقوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اہم انتخابی معرکوں میں 57 ملین سے زیادہ امریکی ووٹرز پہلے ہی اپنے ابتدائی ووٹ کاسٹ کر چکے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق، ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں کے لیے انتخاب ہو رہا ہے۔ ووٹنگ کا وقت ہر ریاست کی جانب سے الگ طے کیا گیا ہے، اور سب سے پہلے پولنگ کا آغاز ورمونٹ، نیو جرسی، ورجینیا، کنیکٹیکٹ اور کینٹکی میں ہوا۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، 100 ارکان پر مشتمل سینیٹ میں اس وقت ریپبلکنز کو 53 نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل ہے جبکہ ڈیموکریٹس اور ان کے اتحادی 47 نشستوں پر براجمان ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کو محض چار نشستوں کی معمولی برتری حاصل ہے۔

انتخابات سے پہلے جارجیا، مشی گن، شمالی کیرولائنا، اوہائیو اور ٹیکساس سمیت اہم سیاسی میدانوں میں بڑی تعداد میں ارلی ووٹنگ دیکھی گئی۔ الجزیرہ کے مطابق ڈیموکریٹس نے مہنگائی کے بحران کے خاتمے اور ٹرمپ کی ایران پالیسی کی مخالفت کو اپنی انتخابی مہم کا مرکز بنایا ہے تاکہ وہ امریکی صدر کی مدت کے آخری دو سالوں پر اثر انداز ہو سکیں۔ دوسری جانب، قدامت پسند امیدوار اپنے وفادار ووٹرز اور ترقی پسند سیاست سے عدم اعتماد کے سہارے ڈیموکریٹس کے مقابلے کی توقع کر رہے ہیں۔ الجزیرہ نے مشی گن میں ایک اہم پیش رفت کا ذکر بھی کیا جہاں ہیلی سٹیونز نے اپنی جماعت کے نامزد کردہ امیدوار عبداللہ السید کے بجائے ریپبلکن مائیک روجرز کی حمایت کی۔

اہمیت کیوں ہے؟

پاکستان اور عالمی برادری کے لیے امریکی کانگریس میں ہونے والی تبدیلیاں اس لیے اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ عالمی خارجہ پالیسی، معاشی سمت اور بین الاقوامی سفارتی تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہیں، اور امریکی مقننہ ملکی حکمرانی اور انتظامی فیصلوں میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔