یوکرین کے شہروں پر جاری میزائل حملوں کے درمیان امریکہ نے ایک بڑے دفاعی پیکج کی منظوری دی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے کیف کے لیے 500 پیٹریاٹ پی اے سی تھری میزائلوں، پرزوں اور متعلقہ معاونت کی 2.1 ارب ڈالر کی ممکنہ فروخت کا اعلان کیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، جنوری 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ کے آغاز کے بعد سے یوکرین کو دفاعی ہتھیار فراہم کرنے کی جانب یہ ایک نمایاں ترین قدم ہے۔ پیٹریاٹ سسٹم کو تیز رفتار بالسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک انتہائی مؤثر ہتھیار مانا جاتا ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میزائل شکن نظام کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کو بتایا کہ روس کی جانب سے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں تیزی کے بعد کیف تقریبا ایک ماہ سے واشنگٹن کی منظوری کا انتظار کر رہا تھا۔ الجزیرہ کے مطابق، دنیپر میں ریلوے پلیٹ فارم پر روس کے ایک حالیہ ڈرون حملے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں دن اور رات کے اوقات میں ہونے والے حملوں سے مزید جانی نقصان ہوا۔
الجزیرہ نے واضح کیا کہ میزائلوں کی ترسیل میں تاخیر ماضی میں واشنگٹن اور کیف کے درمیان کشیدگی کا سبب بن چکی ہے، بالخصوص صدر ٹرمپ کے روس کے ساتھ ڈیزل کے معاہدے اور روسی ریفائنریوں پر حملوں کے حوالے سے صدر زیلنسکی پر تنقید کے بعد۔
محکمہ خارجہ کے مطابق اس خریداری کے لیے فنڈنگ کینیڈا، جرمنی اور ناروے کی جانب سے امریکی جンプ سٹارٹ پروگرام کے تحت دی جانے والی معاونت اور یورپی یونین کے یوکرین سپورٹ لون سے حاصل کردہ قومی فنڈز کے ذریعے کی جائے گی۔ اس معاہدے کے تحت لاک ہیڈ مارٹن ان انٹرسیپٹرز کی مرکزی ٹھیکیدار ہے، جو اس سے قبل پیٹریاٹ میزائل تیار کرنے کے لیے امریکی فوج کے ساتھ 58.6 ارب ڈالر تک کا معاہدہ حاصل کر چکی ہے۔
یہ معاملہ کیوں اہم ہے
بین الاقوامی مشاہدین کے لیے، جن میں پاکستانی ناظرین بھی شامل ہیں، بڑے دفاعی معاہدے اور طویل procurement ٹائم لائنز جدید ریاستی سطح کی عسکری معاونت کے پیچھے موجود پیچیدہ لاجسٹک اور مالیاتی طریقہ کار کو اجاگر کرتی ہیں۔ اگرچہ اعلیٰ سطحی سفارتی اور مالیاتی منظوریوں سے مضبوط بین الاقوامی حمایت کا اشارہ ملتا ہے، تاہم ہتھیاروں کی تیاری کی عملی حقیقت کا مطلب یہ ہے کہ معاہدے کے تحت ملنے والے عسکری آلات کو پروڈکشن لائن سے فرنٹ لائن تک پہنچنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

