ایک غمزدہ خاندان کو اپنے پیارے کی موت کی خبر پانے کے لیے ایک ماہ سے زائد کا طویل عرصہ انتظار کرنا پڑا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ نے یمن میں حوثی تحویل میں دم توڑنے والے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر (OHCHR) کے ملازم محمد الشامی کی ہلاکت پر فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ٹرک نے کہا ہے کہ اس موت کے محرکات اور حالات سے پردہ اٹھانا اس خاندان کا حق ہے۔ وولکر ٹرک نے محمد الشامی کے ساتھ قید دیگر سات او ایچ سی ایچ آر اہلکاروں کی سلامتی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کی اپیل بھی کی۔

الجزیرہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اور بیان میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس واقعے پر شدید صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ حوثی گروپ سے فوری طور پر یہ جواب مانگ رہا ہے کہ محمد الشامی کی موت کیسے واقع ہوئی۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، محمد الشامی جون 2024 سے حوثی تحویل میں غیر قانونی طور پر قید تھے۔ وہ اقوام متحدہ اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے ان 60 سے زائد افراد میں شامل تھے جنہیں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر "امریکی اسرائیلی جاسوس نیٹ ورک" کا حصہ ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

الجزیرہ نے بتایا کہ فروری 2025 میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایک ملازم کی موت کے بعد، محمد الشامی حوثی حراست میں جان بحق ہونے والے اقوام متحدہ کے دوسرے عملے کے رکن ہیں۔ اس گروپ کی طرف سے مجموعی طور پر اقوام متحدہ کے 72 اور این جی اوز کے کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اقوام متحدہ نے فروری 2025 میں حوثی کے زیر کنٹرول بعض علاقوں میں اپنی کارروائیاں معطل کر دی تھیں۔ باغی گروپ نے اس سے قبل ٹی وی چینلز پر بعض قیدیوں کی فوٹیجز بھی نشر کی تھیں جن میں انہیں مغربی انٹیلی جنس اور اسرائیل کا آلہ کار قرار دیا گیا تھا، جبکہ 6 اکتوبر کو اقوام متحدہ نے اعلان کیا تھا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کا ایک ملازم غیر قانونی حراست کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

اہمیت کیوں رکھتی ہے

پاکستان اور پوری بین الاقوامی برادری کے مبصرین کے لیے یہ واقعہ تنازعات کے علاقوں میں کام کرنے والے انسانی اور انسانی حقوق کے عملے کو درپیش بڑھتے ہوئے سکیورٹی اور تحفظ کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ غیر مستحکم خطرات سے دوچار علاقوں میں امداد پہنچانے اور انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے کثیر جہتی اداروں کے لیے امدادی کارکنوں اور بین الاقوامی عملے کی سلامتی ایک اہم تشویش بنی ہوئی ہے۔