جب بولو اور آسٹن نامی طوفانوں نے محض 24 گھنٹوں کے دوران شمالی یورپ کو اپنی لپیٹ میں لیا، تو وہ اپنے پیچھے اندھیروں، منسوخ پروازوں اور بڑے پیمانے پر نقصان کے نشانات چھوڑ گئے۔ الجزیرہ کی رپورٹس اور متعلقہ ممالک کے حکام کے مطابق، ان جڑواں طوفانوں نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں مجموعی طور پر 150,000 سے زائد گھروں کی بجلی منقطع کر دی۔
پریس ایسوسی ایشن کے مطابق اتوار کے روز جنوب مغربی اسکاٹ لینڈ میں درخت گرنے سے 60 سالہ شخص جاں بحق ہو گیا جبکہ وسطی اسکاٹ لینڈ میں ایک اور درخت گرنے سے دو خواتین زخمی ہوئیں۔ اسکاٹ لینڈ کے ارگیل اور بیوٹ کے علاقوں میں 135 کلومیٹر فی گھنٹہ (84 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے تباہی مچائی، جس سے درخت اور بجلی کے تار گر گئے اور اسکاٹ لینڈ اور شمالی انگلینڈ میں سڑکیں اور ریل لائنیں بند ہو گئیں۔ انگلینڈ کے جنوبی ساحل پر واقع شہر برائٹن میں جمعہ کے روز آسٹن طوفان نے ایک پرانا اور غیر استعمال شدہ جیٹی اڑا دیا، جبکہ برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ اڑتے ہوئے ملبے اور اونچی لہروں کے خطرے کے پیش نظر اپنے گھروں کے اندر ہی رہیں۔
انگلش چینل کے دوسری طرف، فرانسیسی توانائی کمپنی اینیڈیس نے بتایا کہ ہفتے کے روز آسٹن طوفان کے عروج پر تقریباً 288,000 گھر بجلی سے محروم ہو گئے تھے۔ اے ایف پی اور اے پی کی رپورٹس کے مطابق اتوار کی دوپہر تک تقریباً 59,000 گھروں میں بجلی بحال نہیں ہو سکی تھی، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق نارمنڈی اور برٹنی کے علاقوں سے تھا، جبکہ شمالی فرانس میں ایک طویل دوڑ (میراتھن) کے شریک کھلاڑی پر درخت گرنے سے معمولی چوٹیں آئیں۔
جرمنی میں آسٹن نے جنوب مغربی قصبے فرائیبرگ-بریزگاؤ اور اس کے گردونواح میں 10,000 گھروں کی بجلی معطل کر دی۔ انہی رپورٹس کے مطابق بجلی نہ ہونے کی وجہ سے قصبے کے مرکزی اسپتال کو اپنی خدمات صرف ایمرجنسی کیسز تک محدود کرنے پر مجبور ہونا پڑا، اور اس بلیک آؤٹ کی وجہ سے مقامی موبائل فون نیٹ ورک بھی بند ہو گیا۔ جرمنی کی پولیس نے بتایا کہ ہفتے کے روز ناسٹاٹن میں ایک مارکیٹ کے مقام پر تیز ہواؤں سے اسکیفولڈنگ گرنے کے نتیجے میں دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔
اس کے علاوہ نیدرلینڈز اور بیلجیئم میں بھی نظام زندگی متاثر ہوا۔ ڈچ کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ طوفان کے دوران شিয়েরمونیکوج جزیرے کے شمال میں ایک مال بردار جہاز پر سوار تین عملے کے ارکان زخمی ہو گئے، جن میں سے دو کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین لینڈ منتقل کرنا پڑا۔ برسلز میں ہفتے کے روز درخت گرنے سے چار افراد زخمی ہوئے، جبکہ ایمسٹرڈیم کے اسکیپول ایئرپورٹ سمیت شمالی یورپ بھر میں سینکڑوں پروازیں منسوخ یا دوسری طرف موڑ دی گئیں۔
پس منظر
الجزیرہ، ایسوسی ایٹڈ پریس اور فرانس پریس کی رپورٹس کے مطابق، اس خطے میں موسم خزاں کے پہلے بڑے طوفانی سلسلے کا سامنا کیا گیا۔ بولو اور آسٹن نامی ان طوفانوں نے 24 گھنٹوں کے اندر شمالی یورپ کو پار کیا، اپنے ساتھ انتہائی تیز ہوائیں، شدید بارشیں اور ساحلی لہریں لے کر آئے۔ برطانیہ کے محکمہ موسمیات سمیت قومی موسمیاتی اداروں نے سیلاب کے خطرات اور اونچی لہروں کے باعث الرٹ جاری کیے تھے۔
اس کی اہمیت کیا ہے
عام قارئین کے لیے، اس پیمانے کے شدید موسمی واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید انفراسٹرکچر — بجلی کے نظام اور موبائل نیٹ ورکس سے لے کر بین الاقوامی ہوابازی کے مراکز تک — کس قدر کمزور ہے جب اسے اچانک اور شدید موسمی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے واقعات موسمی تبدیلیوں کے تناظر میں ہنگامی تیاریوں، بہتر شہری منصوبہ بندی اور بروقت عوامی انتباہات کی عالمی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

