بھارتی ریاست آسام میں بھاری مشینری کے استعمال سے سینکڑوں گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں خاندانوں کو اچانک بے دخلی کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق یہ انہدامی کارروائی ایک سرکاری مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد ان افراد کو ہٹانا ہے جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس زمین پر قانونی طور پر رہائش پذیر نہیں ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق شمال مشرقی بھارت میں اس صفائی آپریشن کے بعد ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ الجزیرہ کی جانب سے نقل کیے گئے مقامی میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ بے گھر ہونے والے تقریباً 4000 افراد کی اکثریت بنگالی بولنے والی مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے۔

پس منظر

یہ انہدامی کارروائیاں بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے ضلع دھوبری میں پیش آئیں، جہاں یہ اقدام ایک سرکاری مہم کے تحت اٹھایا گیا جس کا ہدف وہ خاندان ہیں جنہیں حکام نے قانونی رہائشی حیثیت سے محروم قرار دیا ہے۔

اس معاملے کی اہمیت

خطے کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے قارئین کے لیے، رہائشی عمارتوں سے بے دخلی اور کمزور طبقات کی بے اسرائیلی جیسے امور شہری منصوبہ بندی، قانونی رہائشی حقوق اور ہمسایہ علاقوں میں اقلیتی آبادی کی فلاح و بہبود کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں۔