جدید مشینوں کی گڑگڑاہٹ سے بہت پہلے، سوت اور روح کے درمیان خاموش مکالمے کا نام ہنر تھا۔ برصغیر کی روایتی لوک کہانیوں میں ایک ایسے دیہاتی جولاہے کا ذکر ملتا ہے، جس کے دن کھڈی کے سھت جڑے ہوئے تھے۔ اس کے پاس نہ کوئی بڑا منصب تھا اور نہ ہی شاہی سرپرستی، لیکن اس کا ذہن شہر کے پڑھے لکھے لوگوں سے زیادہ روشن تھا۔

شاہی بلاوا

اس عام کاریگر کی ذہانت کے چرچے بالآخر تخت و تاج تک جا پہنچے۔ جب حکمران کو معلوم ہوا کہ ایک عام آدمی آسان مثالوں سے الجھے ہوئے مسائل حل کر لیتا ہے، تو اس نے دربار میں پیش ہونے کا حکم صادر کیا۔ جولاہا اپنی لکڑی کی کھڈی سے اٹھا، اور گرد آلود گلیوں سے نکل کر سونے اور مخمل سے سجے شاہی محل میں جا پہنچا۔

تخت کے چاروں طرف ریشمی لباس پہنے ہوئے نامور علماء اور مشیر موجود تھے، جن کے پاس فلسفے کی موٹی موٹی کتابیں تھیں۔ انہوں نے اس سادہ مہمان کو حقارت سے دیکھا اور اس کی عقل کو پرکھنے کی تیاری کی۔ دربار کے اہم مشیر نے آگے بڑھ کر ایک مشکل پہیلی پیش کی تاکہ جولاہا اس میں الجھ کر رہ جائے۔

کھڈی کی زبان

بجائے اس کے کہ وہ مشکل الفاظ کا سہارا لیتا یا غرور دکھاتا، جولاہا مسکرا دیا۔ اس نے دربار سے ایک رنگدار دھاگہ اور لکڑی کی ایک کیل مانگی۔ اس نے مہارت سے سمجھایا کہ کس طرح ایک ٹوٹا ہوا دھاگہ پورے ڈیزائن کو خراب کر سکتا ہے، لیکن صبر اور محنت سے اس کو جوڑا بھی جا سکتا ہے۔

"علم بغیر عاجزی کے اس لباس کی طرح ہے جس کی گرہیں بندھی نہ ہوں"، جولاہا نے خاموش دربار سے کہا۔ درباری سوچ میں پڑ گئے اور انہیں احساس ہوا کہ زندگی کی گہری حقیقتوں کے لیے بڑی لائبریریوں کی نہیں بلکہ سچی محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔

انجام

کہانی کا اختتام اس طرح ہوتا ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں کا غرور توڑا اور جولاہے کو دولت کے بجائے عام لوگوں کی حکمت کی قدر کرنے کا درس دیا۔ یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل سچائی ان لوگوں کے پاس ہوتی ہے جو زمین سے جڑے رہتے ہیں۔