آج سے ایک صدی سے زائد عرصہ قبل، ایک ایسا پکیری مہم جو امریکہ کے کھانے پینے کے منظر نامے پر نمودار ہوا جو جتنی جلدی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا، اتنی ہی پراسرار خاموشی سے غائب بھی ہو گیا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، رنجی سمائل نے 1901 میں امریکہ میں غالباً پہلے ہندوستانی ریستوران کی بنیاد رکھی اور نیویارک کے شاہانہ دور کے شائقین کو اپنی مخصوص مصالحے دار تراکیب اور دلکش انداز سے مبہوت کر دیا۔

بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، جو رنجی سمائل نے سن 1899 کے گرمیوں میں لندن سے نیویارک کا رخ کیا تھا۔ ان کے اصل نام، ابتدائی زندگی یا آبائی پس منظر کے بارے میں کوئی مستند تاریخی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ ان کا پہلا نام غالباً برصغیر کے مشہور کرکٹر کے ایس رنجیت سنگھ جی سے متاثر تھا، جبکہ 'سمائل' شاید 'اسماعیل' کی انگریزی شکل تھی۔ نیویارک کی بندرگاہ پر پہنچنے پر انہوں نے اپنا نام جو رنجی سمائل رکھ لیا۔

امریکہ آمد سے قبل، وہ لندن کے معروف سෙසل اور سوائے ہوٹلز میں بطور کری شیف کام کر چکے تھے۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹس کے مطابق نیویارک کے ففتھ ایভینیو پر واقع انتہائی پرتعیش 'شیریز ریستوران' کے مالک لوئس شیری نے ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں اپنے کچن کا حصہ بننے کی دعوت دی۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق، انیسویں صدی کے آخر میں امریکی معاشرہ برصغیر کے مصالحوں سے زیادہ روشناس نہیں تھا، البتہ سوامی ویوکانند جیسے اکابرین کے دوروں اور چند ہندوستانی ملاحوں اور طلباء کی آمد کی وجہ سے مشرقی ثقافت کے بارے میں تجسس ضرور پایا جاتا تھا۔ شیریز ریستوران — جو اس دور کے امراء جیسے کہ ایسٹر خاندان کے افراد کا پسندیدہ مقام تھا — میں سمائل کو ایک بڑا پلیٹ فارم مل گیا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق لوگ بمبئی ڈک اور 'لیٹس سیلون' جیسی ان کی انوکھی تراکیب چکھنے کے لیے جوق در جوق آنے لگے۔

اس ریستوران میں کھانا پکانا اور پیش کرنا محض ایک تھیٹر نما پرفارمنس کی حیثیت رکھتا تھا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، سمائل ریشمی کوٹ اور نیلے رنگ کا ریشمی عمامہ پہن کر گاہکوں کے سامنے جھکتے اور بڑی اپنائیت سے پوچھتے کہ 'صاحب، کری تیز پسند فرمائیں گے یا ہلکی؟' اخبارات اور رسائل میں ان کی تصاویر نمایاں طور پر شائع ہوتی تھیں، اور ایک اخبار کی سرخی کے مطابق نیویارک کی خواتین ان کی دیوانی ہو چکی تھیں۔

اس کہانی کی اہمیت

پاکستان سے تعلق رکھنے والے قارئین کے لیے یہ داستان اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ برصغیر کا ذائقہ اور ثقافتی ورثہ صدیوں سے سرحدیں عبور کرتا رہا ہے۔ جو رنجی سمائل کی زندگی کا یہ احوال اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح دنیا کے دوسرے خطوں میں روایتی کھانوں نے ہمیشہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، جہاں ایک فرد کی اپنی شناخت کی تلاش میں خطے کے پرانے ذائقے بھی ساتھ سفر کرتے ہیں۔