بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے شمالی پہاڑی علاقے اتلاکھنڈ میں چھ افراد کو لے جانے والا ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا ہے، جس میں پانچ یاتری بھی شامل تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ چمولی کے ضلع میں جوشیمٹھ کے قریب ایک گاؤں کے نزدیک گر کر تباہ ہوا۔

بی بی سی نیوز کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر جمعہ کی سہ پہر ہندو یاترا کے مقام بدری ناتھ سے روانہ ہوا تھا جس کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ اتلاکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس پر مشتمل مشترکہ امدادی آپریشن اس وقت جاری ہے۔

بی بی سی نیوز کے مطابق پشکر سنگھ دھامی کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور شدید زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر علاج کے لیے ہوائی جہاز کے ذریعے منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ حادثے کی اصل وجہ ابھی تک سامنے نہیں آ سکی ہے، تاہم بی بی سی نیوز نے بتایا کہ یہ واقعہ شدید بارش، خراب حد نگاہ اور بھارت کے محکمہ موسمیات کی جانب سے گرج چمک، اولیوں اور تیز ہواؤں کے انتباہ کے دوران پیش آیا۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق اتلاکھنڈ ایک ہمالیائی ریاست ہے جو چین اور نیپال سے ملتی ہے اور جہاں ہر سال لاکھوں یاتری مقدس ہندو مقامات کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ بدری ناتھ چار دھام یاترا کے چار مقدس مقامات میں سے ایک ہے، جس کے ساتھ کیدارناتھ، گنگوتری اور یمنوتری بھی شامل ہیں، اور یہ مقامات سخت سردی کے موسم میں محدود مدت کے لیے ہی قابل رسائی ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پہاڑی راستوں کی دشواری سے بچنے کے لیے ہیلی کاپٹر سروسز یاتریوں میں مقبول ہوتی جا رہی ہیں، لیکن ماضی کے حادثات کے بعد اس کی حفاظت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بی بی سی نیوز کے مطابق جون 2025 میں کیدارناتھ کے قریب ہیلی کاپٹر کے حادثے میں سات افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ اکتوبر 2022 میں بھی اسی راستے پر سات افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جس کے بعد ایوی ایشن حکام نے حفاظتی جانچ پڑتال سخت کر دی تھی اور بعض پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اہمیت کیوں ہے

خطے کے قارئین کے لیے بلند و بالا پہاڑی خطوں میں پیش آنے والے یہ واقعات مشکل راستوں اور یاترا کے دوران موسم سے جڑے خطرات اور چیلنجز کو ظاہر کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے مختلف حصوں میں یکساں پہاڑی جغرافیہ کی وجہ سے موسم کی غیر یقینی صورتحال اکثر سامنے آتی رہتی ہے، جو مشکل راستوں پر سفر کرنے والوں کے لیے تحفظ کے معاملات کو اہم بنا دیتی ہے۔