جب ڈیجیٹل گھسنے والوں نے سپر مارکیٹوں کے فریزر کا درجہ حرارت بڑھا کر 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچایا، تو دیکھتے ہی دیکھتے ٹنوں تازہ خوراک سڑنے لگی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ہیکرز کی اس کارروائی کی لپیٹ میں اب تک کم از کم 11 یورپی ممالک آ چکے ہیں۔ جرمنی، رومانیہ اور برطانیہ میں بھی کولڈ اسٹوریج سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ اس سے پہلے بیلجیم، ایسٹونیا، فن لینڈ، آئرلینڈ، اٹلی، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، پرتگال اور سویڈن میں بھی ایسی ہی خرابیاں سامنے آئی تھیں۔
یورپی یونین نے ان واقعات کو الگ تھلگ قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے ایک مشترکہ لائحہ عمل کا عزم ظاہر کیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، یورپی یونین کے ترجمان تھامس ریگنیر نے بتایا ہے کہ اس بلاک کے ادارے قومی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ایسے تمام سائبر خطرات کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اہم حقائق اور سرکاری ردعمل
- الجزیرہ کے مطابق، ان سائبر حملوں کے محرکات تاحال نامعلوم ہیں اور کسی گروپ نے بھی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
- اے ایف پی کے مطابق، رومانیہ کے قومی سائبر سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر ڈین کمپিয়ান نے ان واقعات کو "نیم پیشہ ورانہ" قرار دیا اور کہا کہ حکام کو کسی بھی ریاستی ادارے پر شک نہیں۔
- الجزیرہ کے مطابق، بیلجیم میں گروسری چین کے کولنگ سسٹمز فیل ہونے کی وجہ سے صورتحال انتہائی گھمبیر رہی اور اس معاملے پر وفاقی پراسیکیوٹرز کی تحقیقات جاری ہیں۔
- اٹلی کے اخبار کورییرے دیلا سیرا نے سسلی میں کوآپ سپر مارکیٹوں کے گروپ کے ڈائریکٹر جوزپے سپاڈارو کے حوالے سے بتایا کہ چار اسٹورز متاثر ہوئے، جن کا ہزاروں یورو کا نقصان ہوا اور سارا سامان پھینکنا پڑا۔ اطالوی حکومت نے اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے اور وزیر اعظم جارجیا میلونی کے دفتر کا کہنا تھا کہ اثرات محدود تھے اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
- برطانیہ میں، نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر (این سی ایس سی) کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ ہورنے نے میڈیا کو بتایا کہ ہیکرز نے گوشت پروسیسنگ کرنے والی چھوٹی فرموں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی جس کا اثر بہت کم رہا۔
پس منظر
یہ سائبر حملے پیر اور منگل کے دوران کئی یورپی ممالک میں سامنے آئے۔ حکام اور کمپنی کے نمائندوں نے تصدیق کی کہ جرمنی اور رومانیہ کی سپر مارکیٹیں بھی ان متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو گئی ہیں جن میں بیلجیم، ایسٹونیا، فن لینڈ، آئرلینڈ، اٹلی، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، پرتگال اور سویڈن پہلے ہی سے شامل تھے۔ ان حملوں میں خاص طور پر تجارتی ریفریجریشن اور فریزنگ یونٹس کے درجہ حرارت میں ہیر پھیر کی گئی، جس سے خوراک بڑے پیمانے پر خراب ہوئی اور متاثرہ اسٹورز کے شیلف خالی رہ گئے۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
عام قارئین کے لیے یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل سسٹمز پر انحصار کرنے والا جدید ریٹیل اور سپلائی چین کا نظام کتنا حساس ہو چکا ہے۔ جب روزمرہ کی اہم خدمات اور خوراک کی ترسیل کا نیٹ ورک ڈیجیٹل سسٹمز پر انحصار کرتا ہے، تو کوئی بھی بڑی تکنیکی خرابی یا بدنیتی پر مبنی مداخلت ایک ہی وقت میں متعدد خطوں میں خوراک کی بنیادی سیکیورٹی اور مقامی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔

