گھر کے شائقین کا جوش و خروش، تالیوں کی گونج اور وہ مشہور ون ہینڈڈ بیک ہینڈ شاٹ جس نے دنیا بھر کے دل جیتے، اسٹین واوریکا نے 24 سالہ شاندار اور یادگار کیریئر کو بالآخر الوداع کہہ دیا۔ الجزیرہ اور اے ایف پی کے مطابق، 41 سالہ سوئس ٹینس اسٹار نے اپنے ہوم ٹاؤن میں واقع بازل اوپن ٹورنامنٹ میں کیریئر کا آخری پروفیشنل میچ کھیلا، جہاں چیک جمہوریہ کے کھلاڑی جিরی لیہیکا کے ہاتھوں شکست کے ساتھ ہی ٹینس کے ایک سنہرے باب کا اختتام ہو گیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق واوریکا پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ ان کے کیریئر کا یہ آخری سیزن اور بازل کا یہ ایونٹ ان کا آخری ٹورنامنٹ ہوگا۔ میچ کے دوران جب بھی تجربہ کار واوریکا کوئی پوائنٹ حاصل کرتے، شائقین خوشی سے جھوم اٹھتے۔ پہلے سیٹ میں سخت مقابلے کے بعد لیہیکا نے برتری حاصل کی اور پھر ٹائ بریک میں میچ اپنے نام کر لیا۔ میچ کے اختتام پر اے ایف پی کے مطابق واوریکا نے کورٹ کے گرد چکر لگا کر تماشائیوں کا شکریہ ادا کیا اور پھر کورٹ سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔ اسکائی اسپورٹس کے مطابق مخالف کھلاڑی لیہیکا نے اس موقع کو اپنے لیے ایک اعزاز قرار دیا۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق اسٹین واوریکا ان گنے چنے کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے راجر فیڈرر، رافیل نڈال اور نوواک جوکووچ کے دور اقتدار میں ایک سے زیادہ گرینڈ سلام ٹائٹلز اپنے نام کیے۔ واوریکا نے 2024 میں اے ایف پی کو دیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اس دور میں کھیلا اور ان مایہ ناز کھلاڑیوں کے خلاف فتوحات حاصل کیں۔ ان کی بڑی کامیابیوں میں 2014 کے آسٹریلوی اوپن میں رافیل نڈال کو شکست دینا شامل ہے، جو ان کا پہلا گرینڈ سلام تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2015 کے فرنچ اوپن اور 2016 کے یو ایس اوپن کے فائنلز میں نوواک جوکووچ کو شکست دی۔ ذرائع کے مطابق اپنے ہم وطن راجر فیڈرر کے ساتھ مل کر واوریکا نے سوئٹزرلینڈ کے لیے ڈیوس کپ بھی جیتا اور 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں ڈبلز کا گولڈ میڈل بھی اپنے نام کیا۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز بازل میں واوریکا کے اعزاز میں ایک الوداعی تقریب بھی منعقد کی گئی۔

اہمیت کیوں ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کے لیے ایک ایسے کثیر گرینڈ سلام چیمپیئن کی رخصتی مردوں کے ٹینس میں ایک سنہرے دور کے خاتمے کی علامت ہے۔ فیڈرر، نڈال اور جوکووچ کی طویل اجارہ داری کو توڑنے کی صلاحیت اس عزم اور محنت کی عکاس ہے جو کھیلوں سے محبت کرنے والوں کے لیے ہمیشہ ایک مثال رہے گی۔

آگے کیا ہوگا

الجزیرہ اور اے ایف پی کے مطابق شائقین کو اس سال سوئس کھلاڑی کو ایک آخری بار ایکشن میں دیکھنے کا موقع ملے گا۔ واوریکا نے جون میں اعلان کیا تھا کہ وہ 19 دسمبر کو جنیوا میں "ون لاسٹ بیک ہینڈ" کے نام سے ایک الوداعی تقریب کی میزبانی کریں گے، جس میں راجر فیڈرر اور اینڈی مورے بھی شریک ہوں گے۔ دوسری طرف بازل میں ٹورنامنٹ کے مقابلے جاری رہے جہاں آرتھر فیلس اور بین شیلٹن جیسے کھلاڑی اگلے مرحلے میں پہنچ گئے۔