ہسپانوی وزیر ٹرانسپورٹ اوسکار پوینتے نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق یہ فیصلہ دارالحکومت میڈرڈ کے قریب اوردا کے مقام پر پیش آنے والے ہولناک ہائی اسپیڈ ٹرین تصادم کے محض چھ دن بعد سامنے آیا ہے، جس میں کم از کم 69 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

منگل کی شام پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اوسکار پوینتے نے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپین جیسے ملک میں ٹرانسپورٹ کا وزیر ایک سال کے اندر اس نوعیت کے دو حادثات کے بعد اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا۔ یہ تازہ ترین سانحہ اس وقت پیش آیا جب رینفی کا سرکاری ہائی اسپیڈ ٹرین نے میڈرڈ کے جنوب میں کھڑی ایک اور نجی کمپنی اریو کی ٹرین کو ٹکر مار دی۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق 28 اکتوبر کے اس حادثے کے بعد امدادی کارکنوں کو پٹڑی سے اتر جانے والے ڈبوں تک پہنچنے کے لیے ہیوی مشینری کا استعمال کرنا پڑا جہاں کئی مسافر پھنسے ہوئے تھے۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق اپوزیشن جماعتوں اور حکومتی اتحادیوں کی طرف سے شدید دباؤ کے بعد اوسکار پوینتے کو استعفیٰ دینے کا کہا جا رہا تھا۔ پوینتے نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ انہوں نے 28 اکتوبر کے سانحے کے فوراً بعد ہی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس تازہ ترین حادثے سے پہلے جنوری میں جنوبی اسپین کے علاقے اندلسیہ میں بھی ایک ہلاکت خیز حادثہ پیش آیا تھا، جس کا ذکر پوینتے نے اپنے استعفیٰ کی وضاحت کرتے ہوئے بھی کیا۔

حادثے کے فوراً بعد ہسپانوی میڈیا میں سامنے آنے والی مبینہ آڈیو ریکارڈنگز میں حادثے سے چند منٹ قبل ٹرین ڈرائیوروں اور کنٹرول سینٹر کے درمیان ہونے والی گفتگو کا انکشاف ہوا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق میڈرڈ کے کنٹرول سینٹر اور دو ٹرین ڈرائیوروں کے درمیان تین ٹیپس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہائی اسپیڈ ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی حالانکہ ایک دوسری ٹرین تقریباً 25 کلومیٹر (15 میل) آگے ٹریک پر رکی ہوئی تھی۔

یہ واقعہ کیوں اہم ہے

بی بی سی نیوز کے مطابق وزیراعظم پේද্রো سانچیز نے بیان دیا ہے کہ حکام اس سانحے کے ہر پہلو کی تہہ تک جائیں گے۔ دنیا بھر کے مبصرین کے لیے، اس طرح کے بڑے ٹرانسپورٹ حادثات اور اس کے نتیجے میں ہونے والی سیاسی جوابدہی ریلوے کے حفاظتی ضوابط، شفاف تحقیقات اور بنیادی ڈھانچے کے ان حادثات پر ادارہ جاتی ردعمل کی انتہائی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔