اسپین کے دارالحکومت میں اس وقت سوگ اور غصے کی لہر دوڑ گئی جب 87 سالہ ماریہ کارمین اباسকাল کی موت نے پورے ملک کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ روئٹرز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق، 70 سال تک ایک ہی گھر میں رہنے والی اس ضعیف خاتون کو 23 ستمبر کو زبردستی اس کے گھر سے نکالا گیا تھا، جس کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ اور نقاہت کا شکار ہو کر اسپتال میں انتقال کر گئیں۔

احتجاجی مظاہرے اور عوام کا غم و غصہ

الجزیرہ اور روئٹرز کے مطابق، ماریہ کارمین کی موت کی خبر پھیلتے ہی ہزاروں شہری اسپین کی پارلیمنٹ کے باہر جمع ہو گئے۔ پورٹا ڈె সোল اسکوائر سے شروع ہونے والے اس احتجاج میں شریک افراد نے نعرے بازی کی اور ان کے پرانے گھر کے باہر پھول، موم بتیاں، ہاتھ سے لکھے گئے خطوط اور بچوں کے بنائے ہوئے خاکے رکھ کر خراج عقیدت پیش کیا۔ مظاہرین میں شامل ڈیانا نامی خاتون نے الجزیرہ کو بتایا کہ صدمے نے ان کی جان لے لی۔

اگرچہ ان کی موت کی کوئی باضابطہ وجہ سامنے نہیں آئی، لیکن اسپتال میں زیر علاج رہنے کے دوران انہوں نے اپنے گھر واپس جانے کا معاہدہ طے کر لیا تھا، مگر وہ گھر واپس لوٹنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ الجزیرہ اور روئٹرز کی رپورٹس کے مطابق اس واقعے نے ملک بھر میں ہاؤسنگ بحران اور بڑھتے ہوئے کرایوں کے خلاف شدید احتجاج کو جنم دیا ہے۔

پارلیمنٹ میں سیاسی رسہ کشی

روئٹرز کے مطابق، اس سانحے کے بعد پارلیمنٹ کے اندر بھی سیاست دانوں کے درمیان شدید لفظی جنگ شروع ہو گئی ہے اور ایک دوسرے پر اس المیے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ قدامت پسند اپوزیشن پیپل پارٹی (پی پی) کے رہنما البرٹو نونیز فیجو نے وزیر اعظم پیڈرو سانچز اور سوشلسٹوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ہاؤسنگ بحران کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

روئٹرز نے یہ بھی بتایا کہ پی پی نے ماریہ کارمین کے اعزاز میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ انتہائی بائیں بازو کے ارکان نے سٹی ہال کے باہر خاموشی اختیار کی اور علاقائی اسمبلی کے مباحثے کے دوران انہیں کھڑے ہو کر خراج تحسین پیش کیا، جہاں پی پی کے قانون ساز اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے۔

اس صورتحال اور ہنگامی ہاؤسنگ اقدامات کی ناکامی کے بعد، روئٹرز کے مطابق سوشلسট وزیر اعظم پیڈرو سانچز نے 29 نومبر کو قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کر دیا ہے۔ مزید برآں، روئٹرز نے ریاست کے ادارہ جاتی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جون میں شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق 76.3 فیصد اسپینی باشندوں نے ہاؤسنگ تک رسائی کی ضمانت کے لیے مارکیٹ میں مداخلت کی حمایت کی تھی، جبکہ 79 فیصد کا ماننا تھا کہ رہائش کا حق سب سے پہلے ہونا چاہیے۔