امریکہ کی ریاست ساؤتھ کیرولینا میں قدامت پسند ووٹرز کے ایک گروپ نے سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہوئے کانگریس مین رالف نارمن کے حق میں ایک غیر روایتی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد کردہ امیدوار کو چیلنج کر رہے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، 28 سالہ ایوری ملٹن، جو طویل عرصے سے ٹرمپ کے حامی رہے ہیں، نے دوسری مدت صدارت کے فیصلوں پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی مہم کے دوران نئی جنگوں سے بچنے کے وعدوں کے برعکس ایران کے خلاف جنگ ان کے لیے ایک بڑا موڑ تھی۔
الجزیرہ کے مطابق، یہ جذبہ دیگر نوجوان قدامت پسندوں میں بھی پایا جاتا ہے جو عملی زندگی میں قدم رکھ رہے ہیں اور خاندان شروع کر رہے ہیں، لیکن موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے خود کو الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں۔ سرکاری ریپبلکن امیدوار سینیٹر ڈارلائن گراہم کی حمایت کرنے کے بجائے، یہ ووٹرز رالف نارمن کے حق میں مہم چلا رہے ہیں۔ الجزیرہ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس طرح کے امیدوار شاذ و نادر ہی کامیاب ہوتے ہیں—البتہ 2010 میں الاسکا میں سینیٹر لیسا مرکاوسکی کی تاریخی فتح اس کی استثنا ہے—اور 2022 کے ساؤتھ کیرولینا سینیٹ کے انتخاب میں ایسے ووٹوں کا تناسب صرف 0.1 فیصد تھا۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، سینیٹر ڈارلائن گراہم کو ان کے بھائی اور ریپبلکن امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے 11 جولائی کو اچانک انتقال کے بعد باقی ماندہ مدت پوری کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی تقرری ایک تاریخی لمحہ تھا کیونکہ وہ سینیٹ کی خالی نشست پر مقرر ہونے والی پہلی بہن تھیں۔ اگرچہ انہوں نے ابتدا میں اس ذمہ داری کو اپنے بھائی کے کام کو مکمل کرنے کا موقع قرار دیا تھا، لیکن الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا اور فاکس نیوز پر اپنے انٹرویو میں بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے انہیں مکمل چھ سالہ مدت کے لیے انتخاب لڑنے پر زور دیا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
الجزیرہ کے مطابق، سینیٹ کے انتخاب پر قدامت پسندوں کے اندرونی اختلافات نے سینیٹر ڈارلائن گراہم کے لیے پارٹی ارکان کو متحد کرنے میں مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اس کشمکش کی وجہ سے ڈیموکریٹک حریف این اینڈریوز کے لیے ایک موقع پیدا ہو سکتا ہے، ایسی ریاست میں جہاں 1998 کے بعد سے امریکی سینیٹ کے لیے کسی ڈیموکریٹ کو منتخب نہیں کیا گیا۔

