امریکی صارفین مڈٹرم انتخابات سے قبل ایندھن کی بلند قیمتوں سے پریشان ہیں اور ایسے میں روس سے توانائی کی ایک اہم کھیپ بحر اوقیانوس عبور کر کے امریکہ کی طرف رواں دواں ہے۔ الجزیرہ اور رয়ٹرز کی رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے بعد روس اپنا پہلا ڈیزل ٹینکر 40 ہزار ٹن ایندھن کے ساتھ ایک نامعلوم امریکی بندرگاہ کی طرف روانہ کرنے جا رہا ہے۔
الجزیرہ اور رয়ٹرز کے توسط سے سامنے آنے والے بیانات میں روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے اعلان کیا کہ ابتدائی بحری جہاز جمعرات کو روانہ ہوگا جس میں 40 ہزار ٹن ایندھن ہوگا۔ نوواک کے مطابق رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی بنیاد پر مزید کھیپیں بھی روانہ کی جائیں گی، اور روس اپنی صلاحیت کے مطابق امریکہ کی ضروریات کو پورا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ آر آئی اے نووستی نیوز ایجنسی کے حوالے سے الجزیرہ اور رয়ٹرز نے یہ تفصیلات فراہم کی ہیں۔
امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، جنہوں نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے مذاکرات کیے تھے، ان ریمارکس کی تائید کی۔ الجزیرہ اور رয়ٹرز کی رپورٹ کے مطابق وٹکوف نے بتایا کہ مالی معاملات طے پانے کی صورت میں متعدد ٹینکروں کے مسلسل آنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ وٹکوف نے یہ بھی بتایا کہ روس امریکی مارکیٹ کو بڑی مقدار میں کھاد بھی فراہم کرنے کے قابل ہو گا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹنپ نے بیان دیا تھا کہ ماسکو 3 لاکھ ٹن برآمد کرے گا جو کہ 22.5 لاکھ بیرل کے برابر ہے، اس کے بعد نومبر میں 5 لاکھ ٹن اور اس کے فوری بعد 10 لاکھ ٹن کی برآمد کی جائے گی، جیسا کہ الجزیرہ اور رয়ٹرز نے تفصیل سے بتایا ہے۔
پس منظر
الجزیرہ اور رয়ٹرز کے مطابق آنے والی یہ کھیپ 9 اکتوبر کو روس کی طرف سے ڈیزل کی برآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ ماسکو نے اصل میں یہ پابندی یوکرین سے متعلقہ ڈرون حملوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی گھریلو قلت سے نمٹنے کے لیے لگائی تھی جس سے پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی تھی۔ اس ماہ کے شروع میں یوکرین کی وزارت دفاع نے بتایا تھا کہ ڈرون حملوں نے روس کی تیل صاف کرنے کی صلاحیت کا کم از کم نصف حصہ تباہ کر دیا تھا، جس کی وجہ سے ڈیزل پیدا کرنے والی سرفہرست ریفائنریز کو پیداوار میں کمی کرنا پڑی تھی۔
دریں اثنا، امریکی صارفین مڈٹرم انتخابات سے دو ہفتے سے بھی کم وقت میں پٹرول پمپس پر، بالخصوص ڈیزل کی بلند قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (AAA) کے حوالے سے، جن کا ذکر الجزیرہ اور رয়ٹرز نے کیا ہے، ڈیزل کے ایک گیلن کی اوسط قیمت 6.31 ڈالر (1.70 ڈالر فی لیٹر) ہے، جو کہ ایک ماہ قبل 6.51 ڈالر تھی اور اس میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستانی قارئین کے لیے بین الاقوامی توانائی منڈی کی تبدیلیاں اور بڑی عالمی معیشتوں کے درمیان سفارتی انتظامات وسیع تر اشیائے خوردونص اور استعمال کی قیمتوں کے رجحانات، شپنگ کے اخراجات، اور عالمی سطح پر ایندھن کی دستیابی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ رپورٹ شدہ لین دین خاص طور پر امریکی سپلائی کی ضروریات اور امریکی مڈٹرم انتخابات سے پہلے گھریلو قیمتوں کے دباؤ کو حل کرتے ہیں، لیکن تیل کے بڑے پروڈیوسرز اور برآمدی راستوں سے جڑے یہ معاملات پوری دنیا کے توانائی کے منظر نامے پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔

