ریاض کے باسیوں کو پیر کی رات طاقتور دھماکوں نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا، جو کہ ہنگامی ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے فضائی خطرے کی وارننگ ملنے کے فورا بعد ہوئے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے دارالحکومت کی جانب فائر کیا جانے والا ایک بیلسٹک میزائل ناکام بنا دیا، جو کہ پھیلتے ہوئے تنازع کے دوران اس طرح کے حملوں کا مسلسل تیسرا دن تھا۔
الجزیرہ اور علاقائی حکومتی ذرائع کے مطابق تازہ ترین میزائل برسات میں ریاض کو نشانہ بنانے والا ایک بیلسٹک میزائل اور مملکت کے جنوب مغرب میں خمیس مشیط کی طرف داغے گئے دو دیگر میزائل شامل تھے۔ حوثی عسکری ترجمان یحیی سریع نے بیان دیا کہ ان کے گروپ نے ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا اور خمیس مشیط میں ایک فوجی ایئر بیس کی طرف ڈرون روانہ کیا۔ سریع نے بین الاقوامی ایئر لائنز اور مسافروں کو دوبارہ خبردار کیا کہ وہ سعودی ایئرپورٹس سے گریز کریں، سوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے جنہیں گروپ نے غیر محفوظ قرار دیا۔
یہ تازہ حملے ہلاکت خیز کارروائیوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک پچھلے حملے میں کم از کم 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جبکہ اتوار کے روز ہونے والے ایک اور حملے میں ایک شخص جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔ مجموعی طور پر حالیہ تشدد میں کم از کم 14 اموات ہو چکی ہیں۔ سعودی حکام نے اعلان کیا ہے کہ ایئرپورٹ ہفتے تک بند رہے گا جس کی وجہ سے پروازیں بڑے پیمانے پر منسوخ ہو گئی ہیں۔ اس کے علاوہ الجزیرہ نے یہ بھی بتایا کہ اس مہم کے دوران سعودی تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ریاض میں ایک توانائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان آل سعود نے بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ہفتوں کے واقعات نے مملکت کے عزم کا امتحان لیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کا ردعمل سنجیدہ ہونا چاہیے اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر سرپرستی چلنے والے معاشی تنوع کے منصوبے 'ویژن 2030' اور جاری سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
مزید برآں، الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ سعودی حکام نے اس بات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام پہلے حملے کو روکنے میں کیوں ناکام رہا۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے دو علاقائی حکومتی عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ حوثیوں نے ایئرپورٹ کی طرف کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے ملاپ کو داغنے سے پہلے راستہ صاف کرنے کے لیے کئی ڈرون استعمال کیے تھے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق یہ جاری تشدد یمن کے وسیع تر تنازع سے پیدا ہوا ہے، جہاں حوثی یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی دستوں سے لڑ رہے ہیں۔ سعودی اتحاد حوثیوں کے خلاف فضائی مہم چلا رہا ہے جبکہ حکومت کے وفادار زمینی دستوں کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ نئی کشیدگی امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی وسیع تر علاقائی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان کے عام قارئین کے لیے ریاض کی تازہ ترین صورتحال بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے معاشی، ثقافتی اور روحانی تعلقات ہیں۔ مملکت میں بڑے نقل و حمل کے مراکز کی بندش، تجارتی مراکز کے بند ہونے اور سیکیورٹی کے چیلنجز کا براہ راست اثر اس خطے میں مقیم لاکھوں پاکستانی تارکین وطن کے ساتھ ساتھ ان مسافروں اور زائرین پر بھی پڑتا ہے جو سعودی عرب کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔

