ایک ایسی آواز جو سنائی دیتی ہے
جب کوئی اہم مذہبی شخصیت بولتی ہے، تو سیاست کا رخ بدل جاتا ہے، لیکن ربی ڈو لاندو کے حالیہ بیانات نے جس طرح ہلچل مچائی ہے اس نے ملک کی سیاسی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ان کے سخت صیہونیت مخالف بیانات نے اسرائیل کے اندر انتخابی محاذ آرائی کو ہوا دی ہے اور معاشرے کے ان پوشیدہ اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے جو طویل عرصے سے زیرِ زمین موجود تھے۔
ایسے ملک میں جہاں حکومتیں نازک اتحادوں کے سہارے چلتی ہیں، اس طرح کے بیانات کے اثرات فوری ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ باتیں براہ راست عصری سیاست کے اس مرکز پر چوٹ کرتی ہیں جہاں شناخت، ریاست اور شہری فرائض جیسے سلگتے ہوئے سوالات پر عامۃ الناس اور رہنماؤں کو کٹھہرے میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
فوجی خدمات اور نظریاتی کشمکش
اس تنازع کی جڑیں فوجی خدمات اور نظریاتی وابستگیوں کے گہرے اختلافات میں پیوست ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق، ربی لاندو کا یہ اقدام انتہائی قدامت پسند طبقے کے لیے فوجی بھرتیوں میں چھوٹ کے دیرینہ مسائل کو پھر سے سامنے لے آیا ہے، جو موجودہ حکومت کے استحکام کو بار بار آزمائش میں ڈالتے رہے ہیں۔
برسوں سے فوج میں شمولیت کا یہ سوال مساوات اور قومی ذمہ داریوں پر ہونے والی بحثوں کا پیمانہ رہا ہے۔ جب کوئی بڑا مذہبی رہنما ایسے خیالات کا اظہار کرتا ہے جو روایتی صیہونی نظریات کو چیلنج کرتے ہیں، تو اس کا ردعمل انتظامیہ کے ہر درجے میں محسوس کیا جاتا ہے۔
نیتن یاہو کے اتحادیوں کی سیاسی چالیں
ان بیانات کے سامنے آنے کے وقت نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ الجزیرہ نے بتایا کہ ربی لاندو کے تبصرے براہ راست نیتن یاہو کے ان مذہبی اتحادیوں کو متاثر کرتے ہیں جن کی پارلیمانی حمایت حکومتی اتحاد کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
جیسے جیسے سیاسی حلقے آنے والے انتخابی چیلنجوں کی تیاری کر رہے ہیں، سیکولر حکمرانی اور مذہبی وابستگی کے درمیان قائم نازک توازن کڑی جانچ کی زد میں ہے۔ حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومتی اتحاد ان نظریاتی تنازعات کو جس انداز میں سنبھالتا ہے، وہی آنے والے مہینوں میں اسرائیل کی سیاست کا رخ طے کرے گا۔
