ماسکو پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملوں نے یوکرین جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو فی الحال دھندلا دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں بتایا ہے کہ پارلیمانی انتخابات کے دوران ہونے والے حملوں کے بعد سہ فریقی امن مذاکرات کی فوری بحالی ممکن نہیں۔

جمعہ کے روز ہونے والی اس گفتگو میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ ماسکو اگرچہ انتخابات کے بعد کییف کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار تھا، لیکن روسی دارالحکومت، دیگر شہروں، پولنگ اسٹیشنوں اور انتخابی عملے کو نشانہ بنانے والے بڑے پیمانے پر ڈرون حملوں نے اس راستے کو مسدود کر دیا ہے۔ کریملن کے خارجہ پالیسی کے مشیر یوری یوشاکوف کے مطابق، روس اب یہ جائزہ لے گا کہ آیا اور کب یہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو اس جاری جنگ کو ایک خطرناک تعطل قرار دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ پرامن حل کی کوششیں جاری رکھے گا۔ اس سے قبل یوکرینی صدر ولودیمیر زیلینسکی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اس ماہ امریکہ اور روس کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

اسی ٹیلی فونک رابطے کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ روس امریکی اور عالمی منڈیوں کو 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، 20 ستمبر 2026 کو مبینہ یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں ماسکو میں ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا۔ حالیہ کشیدگی روس میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے ساتھ سامنے آئی، جنہیں حکام کے مطابق بڑے پیمانے پر ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

اس کی اہمیت کیا ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر کے قارئین کے لیے بڑی طاقتوں کے مابین تعلقات میں تبدیلی، توانائی کی مارکیٹس اور بین الاقوامی سفارتی کشمکش عالمی معاشی استحکام، ایندھن کی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی صف بندی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

آگے کیا ہوگا

الجزیرہ کے مطابق، بین الاقوامی ثالث آنے والے ہفتوں میں روس کے سامنے ایک امن تجویز پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ برطانوی حکومت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ پابندیوں کے نظام کے ذریعے روس پر دباؤ جاری رکھے گی۔