پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پارٹی کے اندرونی اختلافات کو بے نقاب کرتے ہوئے بیرسٹر محمد علی سیف کے دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا۔ جیو نیوز کے مطابق، بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عدالتوں اور مذاکرات کے ذریعے ہر ممکن کوشش کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی ایک بھی اجازت نہیں مل سکی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کے دوران بانی پی ٹی آئی تک رسائی پارٹی کی بنیادی شرائط میں شامل تھی اور بیرسٹر سیف کے انٹرویو میں کہے گئے الفاظ سراسر غلط ہیں۔
اس سے قبل جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر محمد علی سیف نے بتایا تھا کہ علامہ راجہ ناصر عباس کے اہم ریاستی حلقوں سے براہ راست رابطے تھے، تاہم ان رابطوں کا مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی نہیں تھا۔ دوسری جانب، جیو نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم پر کسی بھی پارٹی فیصلے کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے مشروط کیا ہے، جبکہ انہوں نے پارٹی کے سوشل میڈیا پر کنٹرول نہ ہونے کا بھی اظہار کیا۔
سیاسی کمیٹی کا اجلاس اور مطالبات
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں اندرونی تقسیم کی تمام خبروں کو مسترد کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پوری پارٹی اپنے بانی، ان کے نظریے اور مشن کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے۔ اجلاس کے دوران ملکی سیاسی صورتحال، مہنگائی اور امن و امان کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
سیاسی کمیٹی نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور دیگر زیر حراست ارکان پارلیمنٹ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کو جمہوری اقدار اورعوامی مینڈیٹ پر حملہ قرار دیا۔ کمیٹی نے اس تشویش کا بھی اظہار کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو اہل خانہ کو بتائے بغیر مبینہ طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، اور مطالبہ کیا کہ طبی علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کیا جائے اور ان کی صحت سے متعلق باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے۔
مزید برآں، کمیٹی نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے اہل خانہ کی ملاقاتیں بحال کرنے، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی شدید مذمت کی، اور ایم این اے عادل بازئی سمیت مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت گرفتار تمام افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے؟
عام پاکستانی قارئین کے لیے یہ تمام سیاسی ہلچل اور بیانات ملک میں جاری کشیدگی، مجوزہ آئینی ترامیم پر بحث اور عوامی نمائندوں کے قانونی مسائل کو واضح کرتے ہیں۔ سینئر قیادت کی جانب سے سامنے آنے والے یہ بیانات موجودہ سیاسی منظر نامے اور سیاسی جماعتوں کو درپیش ریاستی و انتظامی چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں۔

