انٹرنیشنل بریک کے بعد جب انگلش فٹ بال کے مقابلے دوبارہ شروع ہوئے تو مانچستر سٹی کے خلاف ایک بڑے مالیاتی فیصلے نے پوری فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ایک آزاد کمیشن نے مانچستر سٹی کو 2009 سے 2018 کے دوران مالیاتی قوانین کی 100 سے زائد خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق مانچستر سٹی نے اپنی بے گناہی پر زور دیتے ہوئے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ اپیل جیت لی جائے گی اور اس عرصے کے دوران جیتے گئے کسی بھی ٹرافی پر کوئی داغ نہیں ہے۔

فیصلے کے سامنے آنے کے بعد لیگ کے مختلف کوچز نے اس پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ الجزیرہ کے مطابق ایک مینیجر نے کہا کہ یہ غیر یقینی صورتحال کسی کے لیے بھی اچھی نہیں ہے اور اس عمل کے دوران صبر کی ضرورت پر زور دیا۔ ایک اور مینیجر نے اس صورتحال کو بے مثال قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تیزی سے فیصلہ ہونا ضروری ہے تاکہ سب کے لیے معاملات واضح ہوں اور آگے بڑھا جا سکے۔ ایک تیسرے مینیجر نے جاری اپیل کے عمل اور اوقات کار کا احترام کرنے کی اہمیت پر زور دیا جبکہ اپنی ٹیم کی تیاریوں پر توجہ مرکوز رکھی۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق یہ الزامات ایک آزاد کمیشن کی تحقیقات سے سامنے آئے جس نے 2009 اور 2018 کے درمیان پریمیئر لیگ کے مالیاتی قوانین کی 100 سے زائد خلاف ورزیوں کی جانچ پڑتال کی۔ اگر اپیل میں یہ فیصلہ برقرار رہتا ہے تو ممکنہ سزاؤں میں پوائنٹس کی کروی، جرمانے، ٹرانسفر پر پابندیاں اور ریلیگیشن شامل ہیں۔ اس دوران ایورٹن کی جانب سے 2019 اور 2022 کے درمیان مالیاتی پائیداری کے قوانین کی خلاف ورزیوں پر ملنے والی ماضی کی سزاؤں کا بھی موازنہ کیا گیا اور مختلف مقدمات کے نمٹانے کے طریقوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

یہ اہم کیوں ہے

بین الاقوامی کھیلوں کے شائقین کے لیے اس طرح کے اعلیٰ سطحی مالیاتی فیصلے بڑے کھیلوں کے اداروں کے پیچیدہ ضابطہ کار کو نمایاں کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ معاملہ خاص طور پر انگلش فٹ بال سے متعلق ہے، لیکن اس پر عالمی سطح پر پایا جانے والا تجسس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پروفیشنل کھیلوں میں مالیاتی شفافیت کتنی اہمیت رکھتی ہے۔