پولینڈ میں ملک کی اعلیٰ عدالت کی آزادی اور اختیارات پر سیاسی رہنماؤں کے درمیان شدید چپقلش کے باعث آئینی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے، جس کے بعد عدالت کے باہر احتجاج اور اعلیٰ ترین دفاتر کی جانب سے انتباہات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جمعے کے روز آئینی عدالت کے چیف جج بوگدان سویچکوسکی کی اچانک معطلی کے بعد پولینڈ کے صدر کارول ناوورکی نے ہفتے کے روز صدارتی محل میں ہنگامی بحران مذاکرات کا انعقاد کیا۔
الجزیرہ کے مطابق، ان مشاورت میں قوم پرست، انتہائی دائیں بازو اور حکمران اتحاد کی کچھ جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک کی سینٹرسٹ سوکول کوآلیشن پارٹی نے اس اجلاس سے دوری اختیار کی۔ صدر ناوورکی نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے یہ اجلاس پولینڈ کی اندرونی سکیورٹی کو لاحق خطرے کے پیش نظر بلایا ہے۔
ہفتے کی شام کو دیے گئے اپنے ایک خطاب میں، جس کی رپورٹ الجزیرہ نے دی، وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے قدامت پسند قوم پرست اپوزیشن رہنماؤں پر جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو تباہ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ ٹسک نے سویچکوسکی کی برطرفی کا دفاع کرتے ہوئے اسے عدالتی سالمیت کی بحالی کے لیے ایک تکلیف دہ لیکن ضروری قدم قرار دیا، اور الزام لگایا کہ عدالت کے جج سیاسی طور پر غیر جانبدار نہیں تھے اور انہوں نے ماضی میں پارلیمنٹ کو نئے ججوں کے انتخاب سے روکا تھا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، دائیں بازو کی لاء اینڈ جسٹس پارٹی کے حامی ہفتے کے روز عدالت کے باہر جمع ہوئے تاکہ پی آئی ایس کے حامی ججوں کی حمایت میں کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کو مزید وسعت دی جا سکے۔ دریں اثنا، آئینی عدالت کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر حکومت کے اس اقدام کو "تختہ الٹنے" (کو ڈیتات) کے مترادف قرار دیا گیا، جیسا کہ الجزیرہ نے حوالہ دیا۔
اس کشیدگی کے بعد بین الاقوامی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، یورپی کمیشن نے صدر ناوورکی پر زور دیا ہے کہ وہ بحران کے مرکز میں موجود نئے ججوں کی نامزدگی کو قبول کریں۔ اس کے علاوہ، پولینڈ میں امریکی سفیر ٹام روز نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایسی محاذ آرائی سے بچنا چاہیے جو مزید شدت اختیار کر جائے، جیسا کہ الجزیرہ نے رپورٹ کیا۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، آئینی عدالت پولینڈ کی وہ اعلیٰ ترین عدالت ہے جو آئینی معاملات کا فیصلہ کرتی ہے اور یہ برسوں پرانی سیاسی رسہ کشی کے مرکز میں رہی ہے۔ موجودہ تنازعات پولینڈ کی عدالتوں کے سیاسی رنگ اختیار کرنے سے پیدا ہوئے ہیں، اور ٹسک کا کہنا ہے کہ اس عمل کا آغاز دائیں بازو کی پی آئی ایس حکومت کے دور میں ہوا تھا جس نے 2015 سے 2023 تک اقتدار سنبھالا تھا۔ سویچکوسکی اسی دور میں چیف جج مقرر کیے گئے تھے۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر ناوورکی نے بھی اپنے دورِ حکومت میں عدالت میں تقرریوں کو روکا ہے۔ ٹسک اور ان کی پرو-یورپی جماعت کی ایک اہم شکایت یہ تھی کہ عدالت کے پی آئی ایس کے حامی جج اکثر یورپی یونین کے قانون پر پولینڈ کی قانون سازی کے حق میں فیصلے دیتے ہیں۔
اس کی کیا اہمیت ہے
پاکستان اور دنیا بھر کے مبصرین کے لیے، انتظامی اختیارات، عدلیہ اور سربراہانِ مملکت کے درمیان ادارہ جاتی کشمکش سیاسی منتقلی کے دوران حکومتی ڈھانچے کی نزاکت کو اجاگر کرتی ہے۔ عدالتی آزادی، سینئر ججوں کی تقرری، اور قومی بمقابلہ بین الاقوامی قانونی فریم ورک کی بالترتیب پر بحثیں بہت سے پارلیمانی اور صدارتی جمہوریتوں میں گونجتی ہیں جو طاقت کی اسی طرح کی تقسیم کو سنبھال رہی ہیں۔

