جب امن کا گہوارہ کہلانے والا صوبہ سنگین امن و امان کے بحران کا شکار ہو جائے، تو وفاقی حکومت کو مجبورا مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جمعرات کو پشاور کا پہلا دورہ کیا، جس نے خطے کی سیاست میں ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، وزیراعظم نے پشاور میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جہاں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے پاکستان تحریک انصاف (PTI) پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سکیورٹی کے امور میں مجرمانہ غفلت برتی گئی، اور یاد دلایا کہ چھ سال پہلے یہی صوبہ امن کا گہوارہ تھا۔

جیو نیوز کے مطابق اس اہم اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزراء اور نئے تعینات ہونے والے صوبائی مشیر بھی شریک تھے۔ سیاسی کشیدگی کے باوجود وزیراعظم نے صوبے کے مستقبل کے حوالے سے امید کا اظہار کیا اور خیبر پختونخوا کو ایک نہایت خوبصورت خطہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کی رفتار تیز کرنے کے لیے دن رات کام کیا جائے گا۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق، وفاقی حکومت نے انتہائی مجبوری کے تحت 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ اس فیصلے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو پہلی بار پشاور پہنچے، جہاں انہوں نے عسکری قیادت اور صوبائی حکام کے ہمراہ اعلیٰ سطح کے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سکیورٹی اور ترقیاتی چیلنجز کا جائزہ لیا۔

یہ صورتحال کیوں اہم ہے

عام شہریوں اور خیبر پختونخوا کے مکینوں کے لیے انتظامی کنٹرول میں تبدیلی اور اعلیٰ سطح کے سکیورٹی جائزے براہ راست گورننس، علاقائی استحکام اور روزمرہ کے تحفظ کو متاثر کرتے ہیں۔ سکیورٹی کی خامیوں اور ترقیاتی اہداف سے متعلق وفاقی قیادت کے بیانات اس صوبے کو درپیش انتظامی چیلنجز کو واضح کرتے ہیں۔