پشاور میں صوبائی اختیار اور قانونی جنگ کا ایک نیا باب کھل گیا ہے جہاں سرکاری رہائش گاہ پر قبضے کا معاملہ اور گرفتاری کا تلوار لٹکنا فی الحال تھم گیا ہے۔ ایکسپریس ٹ্রিبیون کی رپورٹ کے مطابق، پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بیبی کو سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کا حکم دینے والا حکومتی نوٹس معطل کر دیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی گرفتاری سے بھی روک دیا ہے۔

جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست گزار کے وکیل ایڈوکیٹ یاسر خٹک اور ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل سننے کے بعد تحریری حکم جاری کیا ہے۔

ایف سی رپورٹ کے مطابق عدالت نے اپنے تفصیلی حکم میں لکھا ہے کہ متعلقہ صدارتی آرڈیننس اور سرکاری رہائش گاہیں خالی کرانے کے انتظامی حکم نامے میں اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کے آئینی عہدوں کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ ججز نے اس معاملے کی مزید جانچ تک بیدخلی کا عمل روکنے کے لیے کافی بنیادیں پائیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کے پی اسمبلی اسپیکر اینڈ ڈپٹی اسپیکر ایکٹ 2026 عہدے کی مدت کے دوران سرکاری رہائش گاہ رکھنے کا واضح قانونی حق دیتا ہے اور عہدیدار کے منصب پر فائز رہتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی قسم کی زبردستی کی کارروائی سے روکتا ہے۔ دوسری جانب، ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایمرجنسی کی صورتحال صوبائی حکومت کو وزراء، مشیروں اور ڈپٹی اسپیکر کو الاٹ سرکاری رہائش گاہیں واپس لینے کا اختیار دیتی ہے۔

پس منظر

رپورٹ کے مطابق قانونی تنازع اس وقت شروع ہوا جب صوبائی حکومت نے سرکاری رہائش گاہیں خالی کرانے کا انتظامی حکم نامہ جاری کیا۔ مزید برآں، ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ چترال کے ڈپٹی کمشنر کی مدعی پر ڈپٹی اسپیکر کے خلاف پاکستان تعزیرات کی دفعہ 406 کے تحت مجرمانہ مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے۔

اہمیت کیوں رکھتی ہے؟

اس عدالت حکم سے ڈپٹی اسپیکر کو فوری ریلیف مل گیا ہے اور صوبائی حکام پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آئینی عہدیداروں کو حاصل قانونی تحفظ کی روشنی میں اپنی بیدخلی کی مہم کو درست ثابت کریں۔ عام قارئین کے لیے یہ معاملہ انتظامی ہنگامی اختیارات اور صوبائی قانون کے تحت منتخب عہدیداروں کے قانونی تحفظ کے درمیان جاری کشمکش کو واضح کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

قانونی پوزیشن کا مزید جائزہ لینے کے لیے اس معاملے پر اگلی تاریخ سماعت پر دوبارہ کارروائی کی جائے گی۔