ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ پاکستانی فوجی اہلکار اس وقت متعدد عملیاتی صلاحیتوں کے ساتھ سعودی عرب میں موجود ہیں۔
مکہ معاہدے کا پس منظر
دو طرفہ سیکیورٹی تعاون اور علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ تاریخی مکہ معاہدہ کسی خلا میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق عسکری ترجمان نے پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات کی ساخت اور ان کی طویل مدتی نوعیت کو اجاگر کیا۔
فوجی مصروفیات کی نوعیت
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستانی دستے سعودی عرب کے اندر مختلف حیثیتوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ انکشافات علاقائی استحکام، دوطرفہ دفاعی تعاون اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات کی رہنمائی کرنے والے تاریخی فریم ورک کے حوالے سے جاری وسیع تر گفتگو کے دوران سامنے آئے ہیں۔
دستیاب ماخذ میں کسی مخصوص آپریشنل تعداد یا نئے مینڈیٹ کے بارے میں مزید تفصیلات بیان نہیں کی گئیں، جس سے توجہ مکمل طور پر اسلام آباد اور ریاض کے درمیان تعاون کے دیرینہ فریم ورک پر مرکوز رہی۔
