عالمی امن اور ویٹو پاور کا بحران
جب عالمی طاقتیں دنیا کی تقدیر کے فیصلے اپنے ہاتھ میں رکھتی ہیں، تو قلم کا ایک ہی جنبش دنیا بھر میں جاری تنازعات اور جنگوں کو روکنے کے بجائے انہیں برقرار رکھنے کا سبب بنتی ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ویٹو پاور کو یا تو مکمل طور پر ختم کرنے یا اس پر شدید پابندیاں عائد کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ موجودہ نظام کی وجہ سے ادارہ جاتی بے حسی اور عالمی سطح پر ناانصافیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) میں ویٹو کے استعمال پر ہونے والی بحث کے دوران، پاکستان مشن کے قونصلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سرانی کا کہنا تھا کہ ویٹو کا غلط استعمال سلامتی کونسل کی کارکردگی اور اقوام متحدہ کے وقار کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق انہوں نے یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین—امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ—کو پورے اقوام متحدہ کے نظام میں بے مثال اثر و رسوخ حاصل ہے۔
جیو نیوز کے مطابق، یہ اجلاس اپریل 2022 میں منظور کی گئی قرارداد 76/262 کے تحت بلایا گیا تھا، جس میں یہ طے ہے کہ سلامتی کونسل میں ویٹو استعمال ہونے کے 10 دنوں کے اندر جنرل اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔ اجلاس کے آغاز پر یو این جی اے کے صدر خلیل الرحمن نے بتایا کہ اس ضابطے کے تحت اب تک ایسے 21 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جسے انہوں نے شفافیت، جوابدہی اور اجتماعی ذمہ داری کا عکاس قرار دیا۔
پس منظر اور مستقل نشستوں کی دوڑ
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس بحث کے دوران بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان کی جانب سے سلامتی کونسل میں مستقل نشستیں حاصل کرنے کی مہم کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ پاکستانی سفارتکار گل قیصر سرانی نے خبردار کیا کہ مزید مستقل اراکین کا اضافہ اور ویٹو کے دائرہ کار کو پھیلانا دراصل تاریخی مراعات کو طول دینے، نئی طاقت کے مراکز بنانے اور ادارے کو مزید مفلوج کرنے کے مترادف ہوگا۔
پاکستان اور اٹلی کی زیر قیادت 'یونائٹنگ فار کنسنسز' (UfC) گروپ کے مؤقف کو اجاگر کرتے ہوئے جیو نیوز نے بتایا کہ اسلام آباد سلامتی کونسل کی توسیع کی صورت میں کسی بھی نئے ملک کو مستقل نشست دینے کی مخالفت جاری رکھے گا۔ گل قیصر سرانی نے واضح کیا کہ ویٹو پاور کو پھیلانے کے بجائے اسے ختم یا محدود کیا جانا چاہیے، اور اس ضمن میں جو بھی اقدامات کیے جائیں وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہوں۔
فیصلے روکنے کی اس منفی طاقت کا توڑ کرنے کے لیے، پاکستان کی جانب سے تجویز دی گئی کہ ویٹو کے استعمال پر کڑی بندشیں لگائی جائیں یا پھر منتخب اراکین کی تعداد اور ان کا کردار بڑھایا جائے تاکہ کونسل کے فیصلے کا طریقہ کار زیادہ جمہوری ہو سکے۔
اس مطالبے کی اصل اہمیت کیوں ہے؟
ذرائع کے مطابق، سلامتی کونسل کے فیصلوں کی تاثیر کا براہ راست اثر ان لاکھوں انسانوں پر پڑتا ہے جو جنگ، بدامنی اور انسانی مصائب کی چکی میں پس رہے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمن نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ جب عالمی ادارہ بروقت اور فیصلہ کن اقدام نہیں کرتا، تو اس کی بھاری قیمت سب سے پہلے ان بے گناہ لوگوں کو چکانی پڑتی ہے جو عدم استحکام اور تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔

