جب سرحد پار سے آنے والے بیانات کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں تو اسلام آباد نے اس پر دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔ جیونیوز کے مطابق پاکستان نے سابق امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد کے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان افغان طالبان حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے افغان افراد کو مسلح کر رہا ہے اور پاکستان مخالف عناصر کے خلاف جنگ کے لیے بھرتییاں کی جا رہی ہیں۔
جیونیوز کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں زلمے خلیل زاد کے تمام دعوؤں کو بے بنیاد، گمراہ کن اور پرانی قیاس آرائیوں کا اعادہ قرار دیا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ بیانات دراصل افغان طالبان حکومت کی پشت پناہی کے لیے ایک ذاتی ایجنڈے کی عکاسی کرتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی کی جائز کارروائیوں کو مسلح گروہوں کی سرپرستی کے الزامات کے ساتھ خلط ملط کرنا انتہائی گمراہ کن ہے، اور پاکستان نے خطے میں امن کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔
جیونیوز کے مطابق وزارت نے اقوام متحدہ کی ان مسلسل مانیٹرنگ رپورٹس کا بھی حوالہ دیا جن میں افغانستان کے اندر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ وزارت نے زلمے خلیل زاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم ذمہ داری سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں جو افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے، بالخصوص جب اس حوالے سے بھارت کی سرپرستی میں چلنے والے پراکسیز کے شواہد بھی موجود ہیں۔
پس منظر
جیونیوز کی رپورٹ کے مطابق 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے صوبوں میں، دہشت گردانہ سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسلام آباد مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بھی افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی اور القاعدہ کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے، جب کہ اسلام آباد نے کابل انتظامیہ پر بارہا زور دیا ہے کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کو روکنے کے لیے مؤثر کارروائی کرے۔
اس معاملے کی اہمیت
پاکستان کے عام شہریوں، خصوصاً دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے باسیوں کے لیے یہ سکیورٹی صورتحال اور سفارتی کشمکش براہِ راست ان کے روزمرہ کے تحفظ اور امن و امان سے جڑی ہوئی ہے۔ اس طرح کے بیانات اور ان پر ردعمل اس پیچیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کو اجاگر کرتے ہیں جو جنوبی ایشیا میں سرحدی سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں اور خطے کے استحکام کو متاثر کرتی ہے۔

