ستائیس اکتوبر کا دن ایک طویل اور تکلیف دہ باب کی یاد دلاتا ہے، اور اسی مناسبت سے ملکی قیادت نے ایک بار پھر کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق، یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر جاری کیے گئے خصوصی پیغامات میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اس تنازع کے منصفانہ حل تک اپنی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔
صدرِ مملکت نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان ہر بین الاقوامی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس تنازع پر پاکستان کا مؤقف واضح، پختہ اور اصولوں پر مبنی ہے۔
پس منظر
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج کے سرینگر اترنے کے دن کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ صدر زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام نے دہائیوں تک تنازعات، پابندیوں، تشدد اور جبر کا سامنا کیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے، جب بھارت نے جموں و کشمیر کی آئینی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی یکطرفہ کوشش کی، خطے میں عسکریت پسندی، گرفتاریوں اور بنیادی آزادیوں پر پابندیوں میں مزید شدت آ گئی ہے۔
اس کی اہمیت کیا ہے
جیو نیوز کے توسط سے سامنے آنے والے ان بیانات میں ملکی قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کا دارومدار اسی دیرینہ تنازع کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونے پر ہے۔

