جیو نیوز کے مطابق امریکہ، ک Canadá اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز شعراء، ادیب اور اسکالرز ہیوسٹن کے گردونواح میں تیسرے پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے سلسلے میں جمع ہوئے۔ جیونیوز کی رپورٹ کے مطابق 31 اکتوبر اور یکم نومبر کو منعقد ہونے والی اس دو روزہ تقریب میں ادبی شخصیات اور فنکاروں نے تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں اردو ادب، پاکستانی ثقافت، صحافت، سینما اور درپیش سماجی چیلنجز پر کھل کر بات کی۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ فیسٹیول انٹرنیشنل اکیڈمی آف لیٹرز یو ایس اے کے زیر اہتمام ٹیکساس کے علاقوں شوگر لینڈ اور اسٹافورڈ میں اختتام پذیر ہوا۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے مصروفیت کے باعث ویڈیو پیغام کے ذریعے شرکاء سے خطاب کیا، جبکہ ہیوسٹن میں پاکستان کے قونصل جنرل آفتاب چوہدری اور کینیڈین پارلیمنٹیرین سمیر زبیری نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ انٹرنیشنل اکیڈمی آف لیٹرز یو ایس اے کے صدر غضنفر ہاشمی نے اس تقریب کا خیرمقدم کیا۔
جیو نیوز کے مطابق شوگر لینڈ کے اسماعیل جیم خانہ اینڈ سینٹر میں فیسٹیول کے پہلے روز اردو ادب میں خواتین کی آوازوں، نسلوں کے درمیان قیادت، ذہنی صحت اور پاکستانی سینما و ٹیلی ویژن ڈرامے کی تاریخ پر سیشنز منعقد ہوئے۔ اس روز کا اختتام صوفیانہ کلام کی پرفارمنس پر مبنی ایک ثقافتی پروگرام کے ساتھ ہوا۔
پروگرام کا دوسرا حصہ یکم نومبر کو اسٹافورڈ کے ٹسکان بال روم میں سجایا گیا جہاں جیو نیوز کے مطابق علامہ اقبال کی شاعری، پاکستانی میڈیا میں صحافتی ذمہ داریوں اور پاکستان کے مستقبل کو از سر نو تشکیل دینے کے چیلنجز اور مواقع پر خصوصی نشستیں رکھی گئیں۔
پس منظر
جیو نیوز کے مطابق تیسرا پاکستان لٹریچر فیسٹیول انٹرنیشنل اکیڈمی آف لیٹرز یو ایس اے کی جانب سے ایک ایسی مسلسل کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانی تارکین وطن اور بین الاقوامی اسکالرز کو پاکستانی فن، ثقافت اور سماجی مسائل پر جاری فکری مباحث سے جوڑنا ہے۔ اس تقریب نے مختلف ممالک کے نامور ماہرین تعلیم، صحافیوں، فنکاروں اور سیاسی شخصیات کو ایک چھت کے نیچے جمع کیا تاکہ ثقافتی شناخت، میڈیا کے اصولوں اور ادبی ورثے کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ اہم کیوں ہے
پاکستان اور بیرون ملک مقیم قارئین کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے ایسے اجتماعات اردو ادب، پاکستانی سینما اور ثقافتی مکالمے کی بین الاقوامی رسائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ میڈیا کی ذمہ داری، نوجوانوں کی شناخت اور ذہنی صحت پر ہونے والی گفتگو ان اہم ترین موضوعات کا احاطہ کرتی ہے جو اندرون ملک اور بیرون ملک بسنے والی کمیونٹیز کے لیے یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔

