ریاض کے ایک سویلین ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے نے ہر طرف تباہی پھیلا دی، جس میں متعدد ممالک کے شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد اسلام آباد نے انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق ہفتے کے روز شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں میں سعودی عرب، بنگلہ دیش، امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کے شہری بھی شامل ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق اس حملے میں 12 افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 309 افراد زخمی ہوئے۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والا ایک گھناؤنا فعل قرار دیا۔ وزیراعظم نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمی ہونے والے 309 افراد کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں۔

جیو نیوز کے ذریعے جاری ہونے والے ایک الگ بیان میں دفتر خارجہ نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور سویلین ایئرپورٹ کو نشانہ بنائے جانے کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے جاری جارحیت بالکل ناقابل قبول ہے اور اس پر عالمی برادری کی جانب سے دوٹوک مذمت کی جانی چاہیے۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کا یہ حملہ مملکت کے خلاف جاری کشیدگی کی ایک اور کڑی ہے۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق اس واقعے میں 12 اموات ہوئیں جن میں 4 سعودی، 2 بنگلہ دیشی، اور امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک ایک شہری شامل ہے۔

اس واقعے کی اہمیت

جیو نیوز کے مطابق پاکستان کی قیادت نے دوطرفہ معاہدوں اور تاریخی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے فوری ردعمل دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور دفتر خارجہ دونوں نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ اور اس کی اسٹریٹجک، پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے فیصلوں کا ذکر کیا۔ اس موقع پر سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور سالمیت کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا گیا اور مملکت کے اپنے دفاع کے حق کی بھرپور حمایت کی گئی۔